ختم تعزیہ کا جلسہ : فکر واصلاح کی کامیاب کوشش
(منوروا سمستی پور کے مسلمانوں میں تعزیہ واکھاڑا بند کرنے کے فیصلے کو لے کر قرب وجوار کی بستیوں میں بھی فکر واصلاح کے تئیں مثبت اثرات محسوس کئے جارہے ہیں )
رپورٹ: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگو سرائے
گزشتہ روز منوروا شریف ضلع سمستی پور بہار میں ایک جلسہ بعد نماز مغرب منعقد ہوا جس کی صدارت صاحب علم وفضل ،فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ ربانی منور اشریف نے فرمائی۔
خبر کے اس حصے کو ذہن میں رکھئے کہ یہ جلسہ جامعہ ربانی کی طرف سے نہیں ہوا تھا ،بلکہ گاؤں کے چند اصلاح پسند لوگوں کی جرئت وحوصلہ مندی اور نیکی و شرافت کا نتیجہ تھا۔جامعہ ربانی کے بیان کے مطابق گزشتہ تیس برسوں سے یہ کوشش کی جارہی تھی کہ کسی طرح سے منوروا شریف میں تعزیہ داری کا سلسلہ بند ہو ،اس کے لئے حضرت مولانا محفوظ عالم منوروی رحمہ اللہ کی کاوشوں کو بھلایا نہیں جاسکتا ،جنہوں نے تادم واپسیں اس حوالے سےہمیشہ افہام وتفہیم کا سلسلہ جاری رکھا،بعد کے مرحلے میں یہ تو ہوا کہ مسلسل افہام وتفہیم کے نتیجے میں نرمی آئی اور خانقاہ ربانی کے پاس سے دس محرم کو" جلوسی "اپنے اکھاڑے کے ساتھ خاموشی کے ساتھ گزر نے لگے ،مگر بالکلیہ اکھاڑا بازی ختم نہیں ہوئی،خدا بھلا کرے حاجی نعیم صاحب وغیرہ کے رفقا ء کارکا ،جن کی انتھک محنتوں نے بالآخر رنگ پکڑا اور امسال 2026 مطابق 1448ھ میں متفقہ طور پر تعزیہ داری اور اکھاڑا بازی کی روایت پرہمیشہ کے لئے لگام لگ گیا۔
اجلاس سےدو تین دن قبل ہمیں مولانا فیروز احمد قاسمی مہتمم جامعہ رشیدیہ مدنی مگر خاتوپور بیگو سرائے کی معرفت جان کاری دی گئی تھی کہ 28/6/2026 اتوار کو منوروا چلنا ہے وہاں کے مسلمانوں نے ہمیشہ کے لئےتعز یہ دارای کو بند کردیا ہے اسی مقصد سے مسلم آبادیوں کو جوڑنے اور ختم تعزیہ کے عنوان سے اہل بستی نے متفقہ طور پرایک دینی جلسے کا انعقاد کیا ہے ۔حسب وعدہ ہم لوگ مولانا فیروز صاحب کی قیادت میں اتوار کی شام بلاہی ہوتے ہوئے بعد مغرب منوروا جامعہ ربانی کے علمی وروحانی فضا میں پہنچ گئے ،جہاں میزبان حاجی نعیم صاحب کے ساتھ جامعہ کے اساتذہ و طلباء بالخصوص مفتی جاوید صاحب ،مفتی امتیاز اور مولانا نسیم انظر صاحبان وغیرہم سے والہانہ ملاقاتیں ہوئیں ،جامعہ کی پر شکوہ عمارت کو ایک نظر دیکھ کر قلبی مسرت ہوئی ،مہمان خانے میں ہمیں بٹھایا گیا اور حسب روایت پرتکلف چائے وائے کی مجلس جمی ۔یہاں سے فارغ ہوکر مولانا عبدالجبار صاحب جو انتہائی باوضع ،نیک دل ،خوش اخلاق ملنسار ،سادگی پسند ،مہمان نواز عالم دین ہیں ان کی معیت میں ہمیں آفتاب فقہ، محقق ومصنف حضرت مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ ربانی منور اشریف کے" دائرۃالمعارف الربانیہ " میں لے جایا گیاوہاں مفتی صاحب مدظلہ تشریف فرما تھے،مصافحہ و معانقہ کے بعد کچھ دیر مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوتارہا، بعد ازاں ہم لوگ اس اسٹیج کی طرف روانہ ہوئےجس کے لئے ہمیں مدعو کیا گیا تھا اورجہاں سچ مچ عظیم الشان اجلاس کی کارروائی بحسن وخوبی جاری تھی۔
کچھ ہی لمحے بعد صدر اجلاس کی باوقار تشریف آوری بھی ہوئی اور تلاوت آیات سے جلسے کا باضابطہ آغاز ہوا ۔مختلف مرحلے میں نعت ونظم کو پیش کر مجلس کو روح پرور بنایا گیا ۔مجھ سے پہلے ایک مختصر تقریر مفتی امتیاز قاسمی صاحب کی ہوئی جب کہ دوسری اس عاجز راقم الحروف کی ہوئی ،حسب توفیق مناسب حال گفتگو کی کوشش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اطاعت وعبادت اس امت کی خاص نشانی ہے اور مطلوب و مقصود ہے ،اس کے لئے صبر و شکر اور اخلاق حسنہ کا اختیار کرنا ضروری ہے ۔اطاعت کے لئے ضروری ہے کہ بندہ گناہ سے بچے اور سب کچھ اللہ کی رضا کے لئے کرے۔وہاں کربلامیں بھی حضرت حسین کے پیش نظر رضا و اطاعت ہی تھی، سیدنا حضرت حسین یا ان کے ساتھیوں نے جام شہادت اس لئے پی کہ سیرت رسول اور اسوہ رسول کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی تھی ،انہوں نے شہادت پیش کرکے بتادیا کہ جان دی جاسکتی ہے مگر اطاعت وفرما برداری اور اسوہ رسول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
جان مانگو تو جان دیدوں مال مانگو تو مال دیدوں
مگر یہ ہم سے نہ ہوسکے گا کہ نبی کاجاہ وجلال دیدوں
اسی طرح یہ بھی عرض کیا گیا کہ ملت و سماج کی بھلائی اور دین و عقیدے کی حفاظت کے لئے اگر ضرورت پڑے پیچھے ہٹنے کی،قربانی دینے کی اپنی آنا کو قربان کرنے کی تو سیدنا حسین کی شہادت سے سبق لے کر ہمیں اس کےلئے تیار رہنا چاہئے ۔اخیر میں یہ بھی عرض کیا گیا کہ آپ نے تعزیہ داری کو بند کر جس اتحاد کو پیش کیا ہے اس کے لئے آپ یہاں کی بستیوں میں بھی سرخ رو ہوں گے اور اللہ کے یہاں بھی عزت ملے گی۔
اجلاس سے ممتاز فقیہ مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صدرجمعیۃ علماء بیگو سرائے کا بھی پر مغز خطاب ہوا۔ جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بیگو سرائے مولانا الحاج محمد صابر نظامی قاسمی مدظلہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ چند چیزیں ایسی ہیں جس سے سماج کی ظاہر داری اور روحانیت برباد ہوتی ہے ان میں جوا، شراب ،سٹہ، چوری ،زنا، بے پر دگی حرام خوری اور سودی لین دین کو بڑا دخل ہے ،یہ وہ ناسور ہے جس سے سماج کے ہر طبقے کونقصان اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے علماء ومدارس کی خدمت اور اس سے جڑنے کی بات بھی کہی۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی قدردانی سے زندگی میں دین داخل ہوتا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ علم ،علماء اور مدارس سے جڑ کر روح دین کو سیکھنے کی کوشش کریں ،شوسل میڈیا سے جو علم و فتوی حاصل ہوگا غیر مستند ہونے کی وجہ سے ایمان کو غارت بھی کرسکتا ہے۔
اخیر میں صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ گناہوں کااحساس بڑی چیز ہے،اسی احساس کی وجہ سے انسان اللہ کی نافرمانی اور گناہ سے بچ پاتا ہے ۔ گناہ کے اسی احساس نے حضرت غامدیہ کو دربار رسالت میں اقراری مجرم بننے پر مجبور کیا اور بغیر کسی دباؤ کے تقریبا تین برس تک وہ گناہوں سے پاک ہونے کے لئے تکلیفیں برداشت کرتی رہیں ،وہ جانتی تھی کہ دربار رسالت میں اپنےگناہ کا اعتراف کرنے کامطلب سنگ ساری ہے، زندگی سے ہاتھ دھونا ہےاور موت کو گلے لگانا ہے ،مگر وہ آخرت کے عذاب اور جہنم کی دردناک سزا سے بچنا چاہتی تھی ۔بالآخر وہ سنگ سار کردی گئی۔
نفاق کے احساس نے جب صحابہ کرام کو مجبور کیا ،تو انہوں نےازخود نبی رحمت کے سامنے اقرار کیا کہ آپ کی مجلس والی کیفیت گھر وں میں نہیں رہ پاتی ہے ،یانبی اللہ میں تو منافق ہوگیا اور منافقت تو انسان کی دنیا وآخرت تباہ کر دیتی ہے ،کہیں میری حالت بھی ایسی ہی تو نہیں ؟آقا نے حوصلہ دیا ،فرمایا کہ اگر میری مجلس والی کیفیت ہمہ وقت طاری رہے تو تم سے راہوں میں فرشتے مصافحہ کرنے لگیں گے۔
مفتی صاحب مدظلہ نے یہ بھی فرمایا کہ پختہ عزم و ارادے کی ضرورت ہے ،نیکیوں کے عزم سے نہ صرف نعمتیں نصیب ہوتی ہیں،بلکہ زندگی میں انقلاب رونما ہوتا ہے،آپ دیکھ لیں کہ جب حضرت حسین رضہ اللہ عنہ نے عزم کرلیا کہ مجھے اپنے نانا کی سنت کی حفاظت کرنی ہے تو جام شہادت پینا آسان ہوا ۔مگر باطل کے سامنے سر جھکانا گوارہ نہیں کیا،آپ کے اس حسن عمل سے مسلمانوں میں ایک ایسا صالح انقلاب آیا کہ جب تک دنیا رہے گی حسینی کردار زندہ رہے گا ۔مزید یہ بھی فرمایا کہ ملک وملت کے ساتھ ساتھ اپنے ایمانی وروحانی حالات بدلنے کے لئے ہمیں خود کھڑا ہونا ہوگا ۔قران کریم میں رہنمائی کی گئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ یعنی"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر کی حالت نہ بدلیں۔ اور جب اللہ کسی قوم کے لیے (اس کے اعمال کی وجہ سے) عذاب یا برائی کا فیصلہ کر دے تو اسے کوئی ٹالنے والا نہیں، اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اہم اصول بیان فرمایا ہےکہ اگر کوئی قوم عزت، ترقی، امن اور خوشحالی چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے عقائد، اخلاق، اعمال اور کردار کی اصلاح کرنی ہوگی۔صرف دعاؤں، خواہشوں یا نعروں سے حالات نہیں بدلتے، بلکہ ایمان، محنت، دیانت، عدل اور تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں اضافہ فرماتا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی قوم گناہوں، ظلم، ناانصافی اور نافرمانی میں مبتلا ہو جائے تو اللہ کی نعمتیں زوال میں بدل سکتی ہیں۔آیت کے دوسرے حصے میں تنبیہ ہے کہ جب لوگ مسلسل نافرمانی کرتے رہیں اور اللہ کا فیصلہ عذاب کا ہو جائے، تو پھر کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔اس لئے آئیے گناہوں سے توبہ کیجئے ،توبہ اور توبہ کرنے والوں کی رب دوجیاں کے یہاں بڑی قدر ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
منوروا کے نوجوان ،بڑے بزرگ اور خواتین سبھی مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے آپس میں بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا اور تعزیہ داری کے نام بہت سے گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کا پختہ عزم کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ ہم سبھوں کو گناہ سے بچا کر اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق بخشے۔ قرب وجوار سے بھی بڑی تعداد میں سامعین نے شرکت کی ،تاریخی طور یہ جلسہ عظیم مثالی رہا ،بایں طور کہ دعا کے وقت ہر فرد اپنی جگہ جما رہا جس سے پورا پنڈال روحانی سنا پیش کررہا تھا۔ اجلاس کو کامیاب بنانے والوں میں نوجوانان منوروا کی محنتیں قابل ستائش ہیں۔ محمد فاروق دلکش متعلم جامعہ ربانی کی شاندار نظامت میں ساڑھے گیارہ بجے تک اجلاس کی کارروائی جاری رہی ،بعد ازاں صدر اجلاس کی دعا پر جلسے کا بحسن وخوبی اختتام ہوا۔

0 تبصرے