حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں
آپ اپنے دل کے دروازے پر دربان بن کے بیٹھئے اور دیکھئے کہ دل کے اندر داخل کرنے کے قابل کوئی سوچ ہے یا نہیں۔
سوچ کی دو اقسام ہیں چھوٹی سوچ اور بڑی سوچ۔ چھوٹی سوچ کا مطلب چھوٹے چھوٹے مسائل سے ہی نہ نکل پانا۔
کبھی کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ ان کا ماخذ کیا ہے؟ اگر حُسن خیا ل ہے تواللہ تعالیٰ کاشکر ہے۔ جب یہ بات حضرت بابا بلھے شاہؒ کو سمجھ آئی تو انھوں نے فرمایا، ’’معلوم نہیں، میں مومن ہوں کہ کافر ہوں، میں موسیٰ ہوں یا فرعون ہوں۔‘‘ جب یہ بات مہاتما بدھ کو سمجھ آئی تو اس نے ایک درخت کے نیچے مراقبے میں کئی سال گزار دیئے۔
انسان کے اندر ہی ساری چیزیں ہیں۔ پاکی بھی انسان کے اندر ہے، ناپاکی بھی اسی کے اندر ہے۔
خالد
0 تبصرے