غمِ حسینؑ نے دل میں گلاب کاری کی
۔
غمِ حسینؑ نے دل میں گلاب کاری کی
پھر اِس زمین کی اشکوں نے آبیاری کی
ہمارے بس میں نہ تھا آبِ کربلا پینا
سو اپنی آنکھوں سے ہم نے فرات جاری کی
پلٹ کے آ گیا تارا مدار میں اپنے
ذہین حُرؑ نے اندھیروں سے ہوشیاری کی
پناہ ہم کو بھی مل جائے گی حسینؑ کے پاس
بس ایک آخری منزل ہے شرمساری کی
بھٹک بھٹک کے جہاں میں یہ دربدر دریا
مثال ڈھونڈ رہے ہیں وفا شعاری کی
وہ ہاتھ جس نے جلایا تھا پہلوئے زہراؑ
اسی نے شام کے کوچوں میں سنگ باری کی
ہمی نے نالۂ مظلوم پر کہا: لَبَّیْک
ہمارے پاس ہے تہذیب غم گساری کی
فقیرِ کوچہؐ شبیرؑ ہو گئے، ثاقب ؔ!
ادائیں سیکھ لیں ہم نے بھی شہریاری کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس ثاقب
0 تبصرے