Ticker

6/recent/ticker-posts

عشق مضطر ،کمال ہے تیرا : غزل اردو شاعری

عشق مضطر ،کمال ہے تیرا : غزل اردو شاعری


غزل


عشق مضطر ،کمال ہے تیرا
مجھکو پیہم ،خیال ہے تیرا

آسماں پہ شفق جو پھوٹی ہے
یہ تو رنگِ جمال ہے تیرا

گربلندی پہ جاکے پہنچا تو
واں ٹھہرنا کمال ہے تیرا

تو تو مثل شہاب ثاقب ہے
تابناکی، زوال ہے تیرا

لوگ چہرہ شناس ہیں ورنہ
پوچھتے ،کیسا حال ہے تیرا ؟

چومنے کی سعادتیں مل جائیں
زیر لب یہ جو خال ہے تیرا

تیری فرقت بھی اک قیامت تھی
حشر سا یہ وصال ہے تیرا

پر فتن دور میں بھی اے ارشاد !
ایسے جینا کمال ہے تیرا

ڈاکٹر ارشاد خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے