موت کے سوداگر اور مفرور
اقلیم علیم صاحب
ڈائجسٹ پڑھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو اقلیم علیم صاحب سے واقف نہ ہو۔
انھوں نے ڈائجسٹ کی تاریخ کا دوسرا سب سے طویل سلسلہ وار ناول لکھا ۔ برسوں تک محی الدین نواب کا دیوتا اور اقلیم علیم صاحب کا موت کا سوداگر سسپنس ڈائجسٹ میں ساتھ ساتھ قسط وار شائع ہوتے رہے ۔میں خود اپنے لڑکپن میں یہ دونوں ناول پڑھا کرتا تھا ۔ دیوتا نے طوالت کا ریکارڈ قائم کیا۔ تو موت کے سوداگر کا سحر اور مقبولیت آج تک قائم و دائم ہے۔
میں جب جاسوسی ڈائجسٹ اور سرگزشت کا اسسٹنٹ ایڈیٹر تھا اور انور فراز صاحب ان دونوں ڈائجسٹوں کے ایڈیٹر ۔ تب اقلیم صاحب اس پورے ادارے کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کی سحر انگیز اور بارعب شخصیت میں کچھ الگ ہی بات تھی ۔ ہر عید پر اقلیم صاحب خود جا کر اسٹاف کے ہر فرد سے عید ملتے تھے ۔ پہلی بار جب وہ مجھ سے عید ملے اور ہاتھ ملایا تو میرے ناخن انھیں چبھ گئے ۔ وہ چونک کر بولے ۔ نوشاد ۔ ۔ ناخن دکھائیں اپنے ؟
میں نے ڈرتے ڈرتے دکھائے ۔ اتفاق سے وہ کچھ بڑے تھے۔ باقی لوگ یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔
اقلیم صاحب مسکرا کر بولے ۔ اتنے بڑے ناخن ؟
میں نے جواب دیا ۔ سر کل کاٹ لوں گا۔
پھر کافی وقت گزر گیا ۔ میرے پاس اقلیم صاحب کا موبائل نمبر آگیا ۔اور ان سے رابطہ استوار ہوگیا ۔ کئی بار ملاقات کی کوشش کی ۔ ۔مگر قسمت سے ہو نہیں سکی۔
میرے پاس ہی ڈی ایف کتابوں کا عظیم خزانہ ہے ۔ میں ان بڑے ادیبوں کو ان کی کہانیاں بھیجتا رہتا ہوں۔ کاشف زبیر مرحوم کی کہانیاں ان کی والدہ پروین آنٹی کو ۔ محمود احمد مودی صاحب کو اور اقلیم صاحب کو ۔ ابھی کچھ روز قبل اقلیم صاحب کی ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والی کئی کہانیاں مجھے ملیں تو میں نے اقلیم صاحب کو بھیج دیں۔ وہ خوش ہوئے کہ میرے پاس ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔۔۔۔دیکھوں تو میں نے اس دور میں کیا کچھ لکھا تھا ۔تب موقع پاکر میں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ۔ انھوں نے بہت خوش دلی سے آنے کی دعوت دی۔
آج 20 جون 2026 کو میں انوکھی کہانیاں کے مدیر اعلیٰ محبوب الٰہی مخمور بھائی کے ساتھ ان کی قیام گاہ کا پہنچا۔ بہت شان دار گھر ہے ۔ انھوں نے خود آ کر استقبال کیا ۔ کھانے پینے کا اہتمام پہلے سے کیا تھا ۔ خوب باتیں ہوئیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ لکھنے لکھانے کی دنیا سے نکل چکے ہیں ۔ جو لکھ دیا ۔ ۔ سو لکھ دیا۔
ڈائجسٹوں کی زبوں حالی پر بات رہی۔
میں نے اتنا ضرور کہا ۔ کہ سر آپ جیسے ادیبوں نے جو کام کر دیے ۔ اب کوئی نہیں کرسکتا۔
ہم نے اقلیم علیم صاحب کو آپ بیتیوں کی کتابیں اور قلم کتاب بھی پیش کی۔
اقلیم علیم صاحب کی فوٹوز بہت کم دیکھی گئی ہیں ۔اگرچہ وہ فوٹوز کے حق میں نہیں تھے ۔ مگر اتنی زبردستی تو میں نے کر ہی لی۔
یہ کہہ کر کہ سر یہ آپ کے لاکھوں چاہنے والوں کے لیے تحفہ ہوں گی۔
نوشاد عادل

0 تبصرے