Ticker

6/recent/ticker-posts

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ - Iza ja'a nasrullahi wal-fath

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ


انسان عموماً سمجھتا ہے کہ کامیابی کا مطلب جشن منانا، اپنی برتری ثابت کرنا اور مخالفین کو نیچا دکھانا ہے۔ لیکن قرآن کامیابی کی ایک بالکل مختلف تعریف پیش کرتا ہے۔

سورۂ النصر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اُس وقت خطاب کیا جب دعوتِ حق اپنی عظیم کامیابی کے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی، لوگ جوق در جوق دین کو قبول کر رہے تھے اور فتح کے آثار نمایاں تھے۔ مگر اس موقع پر حکم یہ نہیں دیا گیا کہ اپنی طاقت کا اعلان کرو، اپنے مخالفین کو یاد دلاؤ کہ تم جیت گئے ہو، یا اپنی کامیابی کے قصے سناؤ۔

بلکہ فرمایا:

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ

یعنی جب کامیابی ملے تو اپنے رب کی حمد کرو اور استغفار کرو۔

یہ ایک عظیم انسانی سبق ہے


جب انسان کامیابی کو اپنی ذہانت، اپنی محنت، اپنی جماعت، اپنے قبیلے یا اپنی طاقت کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے تو تکبر جنم لیتا ہے۔ لیکن جب وہ کامیابی کے لمحے میں بھی اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے تو اس کے اندر عاجزی، شکر اور انسان دوستی پیدا ہوتی ہے۔

آج کی دنیا میں لوگ کامیابی کے بعد زیادہ شور مچاتے ہیں، زیادہ تقسیم پیدا کرتے ہیں اور زیادہ نفرتیں بانٹتے ہیں۔ سورۂ النصر سکھاتی ہے کہ اصل فتح وہ ہے جو انسان کو متکبر نہیں بلکہ متواضع بنا دے، جو اسے دوسروں پر چڑھنے کے بجائے اپنے رب کے قریب لے آئے۔

کامیابی کا سب سے خوبصورت امتحان یہ نہیں کہ آپ کتنے اوپر پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ اوپر پہنچ کر آپ کے اندر عاجزی کتنی باقی رہی۔

یہی سورۂ النصر کا ابدی پیغام ہے۔
عبدالغفارخان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے