میں بھی پچاس سال کی عمر عبور کر چکا ہوں
ایک زمانہ تھا جب پچاس سال کی عمر کا تصور ہی بڑھاپے کا احساس دلاتا تھا۔ لیکن آج جب خود اس مرحلے پر کھڑا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بڑھاپا عمر کا نہیں، سوچ کا نام ہے۔ اگر جسم متحرک ہو، ذہن مصروف ہو اور زندگی کا کوئی مقصد باقی ہو تو عمر صرف کیلنڈر کے صفحات پر بڑھتی ہے، انسان کے اندر نہیں۔
بطور معالج روزانہ درجنوں مریضوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ بیماریوں کا علاج کرتے کرتے ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ انسان کو صرف دل، گردے یا پھیپھڑوں کی بیماری نہیں توڑتی، بعض اوقات بے مقصدی، تنہائی اور دوسروں پر مکمل انحصار بھی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ہماری پوری زندگی تعلیم، ملازمت، بچوں کی پرورش، گھر بنانے اور ذمہ داریاں نبھانے میں گزر جاتی ہے، مگر افسوس کہ ہم اس دور کی تیاری نہیں کرتے جو ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتا ہے۔ حالانکہ ریٹائرمنٹ ملازمت سے ہوتی ہے، زندگی سے نہیں۔
اگر آپ پچاس سال کی عمر عبور کر چکے ہیں تو آج ہی اپنے آنے والے برسوں کی منصوبہ بندی شروع کر دیں۔ ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، پیدل چلیں، جسم کو متحرک رکھیں، کوئی مشغلہ اپنائیں، کتابوں سے دوستی کریں، سفر کریں، سماجی خدمت کریں یا کوئی ایسا ہنر سیکھیں جو آپ کو ہر صبح بستر سے اٹھنے کی ایک نئی وجہ دے۔
اسی طرح اپنی مالی خودمختاری کو بھی محفوظ رکھیے۔ جہاں تک ممکن ہو، اپنے فیصلے خود کیجیے، اپنے معاملات خود سنبھالیے اور اپنی زندگی کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھیے۔ خودمختاری صرف معاشی نہیں ہوتی، ذہنی اور جذباتی خودمختاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اگر شریکِ حیات ساتھ ہیں تو یہ زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے۔ برسوں کی مصروفیات کے بعد شاید اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ لمحے گزاریں جنہیں زندگی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔
اور اگر قسمت نے آپ سے آپ کا شریکِ حیات چھین لیا ہے تو صرف اس لیے کہ معاشرہ کیا کہے گا، باقی زندگی تنہائی میں گزار دینا ضروری نہیں۔ انسان کو صرف روٹی اور دوا نہیں چاہیے، اسے ایک ہمراز، ایک ہم سفر، ایک ایسا شخص بھی چاہیے جس سے وہ دن بھر کی باتیں کر سکے، جس کے ساتھ چائے کا ایک کپ بانٹ سکے، جو خاموشیوں کی زبان بھی سمجھتا ہو۔
اگر والد یا والدہ اپنی مرضی سے دوبارہ شادی کرنا چاہیں تو میرے نزدیک اولاد کا فرض یہ نہیں کہ وہ سماج کے خوف سے اس راستے میں رکاوٹ بنے، بلکہ ان کے وقار، سکون اور خوشی کا خیال رکھے۔ زندگی کے آخری برس تنہائی کی سزا نہیں ہونے چاہیے۔ ایک باوقار رفاقت کسی بھی عمر میں زندگی کو نئی روشنی دے سکتی ہے۔
اور میری نوجوان نسل سے بھی ایک درخواست ہے۔
والدین کی خدمت صرف یہ نہیں کہ بیماری میں انہیں اسپتال لے جائیں یا دوائیں خرید دیں۔ اصل خدمت تو یہ ہے کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے ہی نہ دیں جہاں وہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے آپ کے محتاج ہو جائیں۔ انہیں ورزش کی ترغیب دیں، صحت مند طرزِ زندگی اپنانے میں ان کا ساتھ دیں، ان کی مالی منصوبہ بندی میں مدد کریں، ان کے فیصلوں کا احترام کریں، انہیں سماجی طور پر متحرک رکھیں اور سب سے بڑھ کر ان کی خودمختاری کو محفوظ رکھیں۔
میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے شمار ایسے بزرگ دیکھے ہیں جنہیں بیماری سے زیادہ اپنی بے اختیاری نے توڑا۔ جب انسان چل سکتا ہو مگر اجازت مانگے، خرچ کر سکتا ہو مگر جیب خالی ہو، فیصلہ کر سکتا ہو مگر اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہو، تو اصل تکلیف بیماری نہیں، بےبسی ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے والدین کے لیے صرف لمبی عمر کی دعا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ایسی عمر کی دعا کرنی چاہیے جو صحت مند ہو، باوقار ہو، خودمختار ہو اور خوشیوں سے بھرپور ہو۔ اور یہی تیاری ہمیں اپنی زندگی کے لیے بھی آج سے کرنی چاہیے۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا...
بڑھاپا عمر کا نام نہیں، بے اختیاری کا نام ہے۔ اور جوانی صرف چہرے کی تازگی نہیں، بلکہ مقصد، حرکت، خودمختاری اور امید کا نام ہے۔ اگر ہم نے آج سے اس کی تیاری کر لی، تو ریٹائرمنٹ ہماری زندگی کا اختتام نہیں بلکہ شاید اس کا سب سے خوبصورت باب ثابت ہو۔
تحریر: ڈاکٹر فواد فاروق
0 تبصرے