جنسی تشدد: ایک سماجی ناسور
از قلم: آمینہ یونس ،بلتستانی
حالیہ دنوں میں ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات اور اس سے پہلے بھی پیش آنے والے ایسے کئی سانحات کا ذکر ہم سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں۔ عموماً چند دن یہ خبریں موضوعِ بحث رہتی ہیں، لوگ افسوس کرتے ہیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر ان والدین کے دلوں پر لگنے والے زخم ایسے نہیں ہوتے جو چند دنوں میں بھر جائیں۔ ان کے لیے ہر خبر، ہر ذکر اپنی اولاد کے دکھ کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ والدین اپنے بچوں سے کیوں غافل رہے یا وہ اپنے بچوں کی حفاظت کیوں نہ کر سکے، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کی ذمہ داری کہاں تک بنتی ہے؟ مہنگائی اور معاشی مسائل اپنی جگہ، مگر شہریوں کی جان، عزت اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آخر کب تک کم سن بچیاں اور بچے ایسے جرائم کا شکار ہوتے رہیں گے؟ وہ معصوم بچے جنہیں ابھی زندگی کی حقیقتوں کا بھی شعور نہیں، ایسے ظلم کا بوجھ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ جب انصاف کمزور پڑنے لگے تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشرہ اس کا اثر برداشت کرتا ہے۔ خوف، بے اعتمادی اور بے یقینی آہستہ آہستہ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بننے لگتی ہے۔ آج بہت سی مائیں اپنی بیٹیوں اور بچوں کے حوالے سے خوف محسوس کرتی ہیں کہ اگلے لمحے کیا ہو جائے۔ اس ظلم نے لوگوں کے سکون اور اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات پر وقتی ردِعمل سے آگے بڑھا جائے اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔ قانون کی مضبوطی، فوری انصاف، بچوں کے تحفظ اور اخلاقی تربیت پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ یہ صرف جرم نہیں بلکہ معاشرے کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرے میں پھیلتا غیر اخلاقی مواد اور بے لگام رویّے بھی انسانی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسلام نے حیا، نگاہوں کی حفاظت اور حدود کی پاسداری کی تعلیم کسی وجہ سے دی ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں جگہ دیں تو شاید ایک بہتر اور محفوظ معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ خدارا ان معصوم کلیوں پر ایسا ظلم نہ کریں جن کی وہ حق دار کبھی نہیں تھیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہے۔
کہ آخر کب تک کہ آخر کب تک ۔
0 تبصرے