Ticker

6/recent/ticker-posts

قلم کارواں اسلام آباد

قلم کارواں اسلام آباد


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قلم کارواں اسلام آباد
(کہ گئے ہیں شاعری جز یست از
پیغمبری)

مجلسِ مشاورت:میر افسر امان, ڈاکٹر ساجد خاکوانی, محترمہ ناہید افشاں۔
کارروائی ہفت روزہ شعری نشست بروز ہفتہ 6جون2026
آج بعد نماز عشاء 10بجےہفت روزہ شعری نشست لہروں کے دوش پر منعقد ہوئی ۔آج کے مشاعرہ میں مصرع طرح تھا: "تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا“

کراچی سے معروف شاعر ،مصنف و محقق جناب سید محمد اختر نے صدارت کے فرائض سر انجام دیے ۔محترمہ ناہید افشاں کی نظامت میں شعری نشست کا آغاز ہوا ۔تلاوت قرآن مجید کی سعادت جناب میر افسر امان نے حاصل کی ۔مطالعہ حدیث نبوی ﷺ جناب علامہ کاشف نور الازھری نے پیش کیا۔

صدر مجلس کی اجازت سے شعری نشست کا آغاز ہوا حسب روایت ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق غزل: تجھے یاد نہیں میرے دل کا وہ زمانہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ ادب گہ محبّت وہ نگہ کا تازیانہ " سنائی اس کے بعد جناب حسن شاہد نے کلام سنایا"تو غلاموں کی تلاش میں در بدر پھرتا ہے ٹرمپ۔۔مرد مومن بک نہیں سکتا "۔اگلا کلام محترمہ ناہید افشاں نے طرح مصرع پر سنایا "آ تجھے سنائیں حال اک گلستاں کا۔۔۔اور اس گلستاں کے بگڑے باغباں کا" ۔اگلا کلام علامہ کاشف نور الازھری نے پیش کیااوربحضور سرور کائنات ﷺ نعت پیش کی؛ " جتنے اوصاف بھی سرکار میں آجا تے ہیں۔۔۔۔ وہ خوب کے معیار میں آ جاتے ہیں"۔اور نظم کا مقطع کچھ یوں تھا "نہ اقبال ورومی نہ رازی غزالی۔۔۔۔۔

مسلط ہے بےدین روشن خیالی ۔"اس کے بعد جناب میر افسر امان نے طرحی مصرع پر نظم سنائی ۔" تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا ۔۔۔۔ہم نے اپنے اپنے جہان بنا رکھے ہیں"۔ڈاکٹر کامران اصغر نے غزل سنائی "قضا من جانب اللہ ۔۔۔۔۔۔رضا من جانب اللہ"محترمہ سارہ سید کی غزل کا مطلع کچھ یوں تھا " شاخ نازک پہ بنا بیٹھے تھے گھر کیا کرتے ۔۔۔۔۔گرنے کےخوف میں کاٹی یہ عمر کیا کرتے "اس کے بعد جناب عامر رحمت نے کلام سنایا "ہر ایک منزل کے دامن میں اشارہ ہے۔۔۔۔۔جوانی جاگ جائے تو زمانہ تمہارا ہے"اگلا کلام جناب سلطان محمود شاہین نے پیش کیا "یہ چاہت کتنی عجیب ہے۔۔۔۔۔ ۔دل کے کتنے قریب ہے"یہاں مشاعرے کا پہلا دور مکمل ہوا.دوسرے دور کا آغاز ڈاکٹر ساجد خاکوانی کے انتخاب کلام اقبال کی اس غزل سے ہوا"تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میری سادگی دیکھ کیا چاہتا تھا ہوں،اگلا کلام جناب میر افسر امان نے پیش کیا"منتشر ذہن ٹرمپ نے جنگ کو مذاق بنا رکھا ہے.ڈاکٹر کامران اصغر کی غزل کا مطلع کچھ یوں تھا "خدا کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا ۔۔۔۔۔ہر اک تدبیر کو تقدیر کے پیکر میں ضم کرنا"۔اس کے بعد ڈاکٹر صبیحہ اخلاق صاحبہ نے کلام پیش کیا "الجھے ہوئے ذہنوں سے نکل کر دیکھ ۔۔۔اس دھوپ کا کیا رنگ ہے جل کر کبھی دیکھ" ۔اس کے بعد محترمہ سارہ سیدنے غزہ پر لکھی گئی نظم سنائی "میری آنکھیں بھیگی رہتی ہیں۔۔۔۔دل وحشی کسی بھی پل سکون پا کے نہیں دیتا". جناب عامر رحمت کی غزل کا مطلع کچھ یوں تھا "پڑاؤ ڈال چکے تھے ادھر کیا کرتے۔۔۔۔۔۔بجھا ہوا تھا ستارہ سفر کیا کرتے "۔محترمہ صبیحہ اخلاق نے اپنا کلام پیش کیا"عکس زمان و مکان کے نشانات سے بھی پرے۔۔۔۔محبت کےاس اتھاہ سمندر میں عکس نظر آیا"جناب سلطان محمود شاہین نے علامہ اقبال کے اشعار سنائے"دیا ر عشق میں اپنامقام پیدا کر۔۔نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر مشاعرے کا دوسرا دور ختم ہوا۔

جناب سید محمد اختر نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرداً فرداً تمام شعراء و شاعرات کے کلام پر پسندیدگی کا اظہار کیا اؤر انتخاب کلام پیش کرے والے شرکاء کے کلام پر بھی پسندیدگی ظاہر کی۔

جناب سید محمد اختر نے طرح مصرع پر اپنا کلام پیش کیا"مالک ہےمیری جان کا کونین لا مکاں کا۔۔۔۔۔۔۔۔بندہ ہوں میں ادنی سا اسی رب جہاں کا" ۔اور آپ کی غزل کا مطلع کچھ یوں تھا "دلکش حسین کومل شائستہ واجمل۔۔۔۔۔۔۔مٹتا نہیں دل سےاس کا نقش اول"اور آپ نےیہ غزل بھی سنائی" چمن میں پھولوں پر کوئی اختیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔میرے نصیب میں کوئی بہار نہیں“۔
آپ کا کلام بھی بے حد پسند کیا گیا
نشست کے آخر میں ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے تمام شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا۔
اور دعا پر یہ نشست اختتام پذیر ہوئی(کارروائی از؛محترمہ ناہیدافشاں،راوپنڈی)_

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے