دل کی باتیں کس کو جا کر اب سنائیں ہم یہاں : غزل
میراثِ سخن:
دل کی باتیں کس کو جا کر اب سنائیں ہم یہاں
زخمِ دل اپنا کسے جا کر دکھائیں ہم یہاں
وضع اپنی ہے پرانی، وہ نئے انداز کے
کیسے ان سے اب کوئی بھی دل لگائیں ہم یہاں
ذوقؔ اور بیدلؔ سے پایا ہم نے ہر اک رازِ فن
ذاتِ اقبالؔ سے اپنی خودی پائیں ہم یہاں
میرؔ اور غالبؔ سے پائی ہم نے فکری روشنی
انشاؔ اور فانیؔ کا جذبہ اب بسائیں ہم یہاں
جونؔ اور زیدیؔ کو مانا ہم نے اپنا مستند
ان کی شاعری سے اپنی جاں جگائیں ہم یہاں
لے کے منٹو کی طرح ہم سمتِ الٹی چل پڑے
اجنبی لوگوں سے جا کر لو لگائیں ہم یہاں
راہِ جاناں میں کھڑا ہے عازمِؔ خستہ جگر
وہ سنے گر داستاں، تو لب ہلائیں ہم یہاں
عازمؔ
0 تبصرے