قرآن کریم کے انگریزی تراجم : تحقیقی مطالعہ
ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
قرآن کریم کے انگریزی تراجم
(تحقیقی مطالعہ)
مصنف : پروفیسر شفقت حسین خادم
صفحات : 525 قیمت : 1400 روپے
ناشر : قرطاس، کراچی
رابطہ : 03213899909
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور ابدی پیغامِ ہدایت ہے، جس کی عالمگیر دعوت نے اسے دنیا کی تقریباً تمام اہم زبانوں میں منتقل ہونے کا شرف بخشا ہے۔ ان تراجم کے ذریعے مختلف تہذیبوں، اقوام اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قرآن کے مضامین سے آگاہی حاصل ہوئی۔ ان زبانوں میں انگریزی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ عصرِ حاضر میں یہ بین الاقوامی رابطے، علمی تحقیق اور فکری مکالمے کی سب سے مؤثر زبان سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ انگریزی زبان میں قرآنِ کریم کے تراجم کی ایک طویل، متنوع اور علمی روایت موجود ہے، جس کے مطالعے سے نہ صرف ترجمۂ قرآن کی تاریخ بلکہ مختلف فکری، مذہبی اور علمی رجحانات کا بھی پتا چلتا ہے۔
انگریزی زبان میں تراجمِ قرآن کا آغاز اگرچہ مستشرقین کی کاوشوں سے ہوا، تاہم بعد ازاں مسلم اہلِ علم نے بھی اس میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان تراجم کی تاریخ، ارتقا، فکری پس منظر اور اسلوبیاتی خصوصیات پر ایک جامع اور تحقیقی مطالعے کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔ پروفیسر شفقت حسین خادم، سابق پرنسپل گورنمنٹ اسلامیہ کالج کراچی اور شعبۂ علومِ اسلامیہ جامعہ کراچی کے ممتاز استاد نے اپنی تصنیف ’’قرآن کریم کے انگریزی تراجم (تحقیقی مطالعہ)‘‘ کے ذریعے اس علمی خلا کو بڑی حد تک پُر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
مصنف کو زمانۂ طالب علمی ہی سے انگریزی تراجمِ قرآن کے مطالعے سے خصوصی شغف رہا ہے۔ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ انگریزی زبان میں دستیاب تراجمِ قرآن کو حتی الامکان ایک جگہ جمع کرکے ان کا تعارف، پس منظر اور علمی توضیح پیش کی جائے۔ ملازمت سے فراغت کے بعد جون 2019ء میں انہیں اس منصوبے پر بھرپور توجہ دینے کا موقع ملا۔ پیشِ نظر کتاب ان کی گزشتہ چھے برسوں کی مسلسل محنت، جستجو اور علمی عرق ریزی کا حاصل ہے۔
فاضل مصنف نے ابتدائی مستشرق مترجمین سے لے کر جدید مسلم مترجمین تک کے علمی سفر کا احاطہ کیا ہے۔ جارج سیل (1697ء۔1736ء) سے لے کر علی سلامی (1928ء۔1980ء) تک 43 اہم مترجمین کے حالات، علمی پس منظر، ترجمے کے منہج اور ان کی نمایاں خصوصیات کا تفصیلی تعارف کتاب کا اہم ترین وصف ہے۔ مصنف نے حتی المقدور یہ کوشش کی ہے کہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ہر معروف ترجمۂ قرآن کا کم از کم ذکر ضرور آجائے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب تقریباً چار صدیوں پر محیط تراجمِ قرآن کی تاریخ کا جامع خاکہ پیش کرتی ہے۔
پیشِ نظر کتاب میں پروفیسر شفقت حسین خادم نے کم و بیش 105 انگریزی تراجم اور مترجمین کا تعارف پیش کیا ہے۔ان میں سے 43 تراجم کو مستقل ابواب کے تحت تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا ہے، جبکہ دیگر تراجم کا زمانی ترتیب کے ساتھ تعارف اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سورۂ کوثر کے دو الفاظ ’’الکوثر‘‘ اور ’’ابتر‘‘ کو منتخب کرکے مختلف مترجمین کے انگریزی مترادفات نقل کیے گئے ہیں، جس سے قاری کو ترجمے کے اسلوبی تنوع اور فکری اختلافات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف تراجم کا تعارف ہی نہیں کرایا گیا بلکہ مترجمین کے فکری رجحانات، مذہبی وابستگیوں اور علمی مناہج کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ خصوصاً احمدی اور قادیانی مترجمین کے تراجم، ناسخ و منسوخ، سبعہ احرف اور دیگر متعلقہ مباحث کو الگ عنوانات کے تحت شامل کرکے موضوع کو مزید وسعت اور گہرائی عطا کی گئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ مترجم کا فکری اور اعتقادی پس منظر بعض اوقات ترجمے کے مفاہیم اور اسلوب پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔
پروفیسر شفقت حسین خادم نے مختلف تراجم کے تقابلی مطالعے کے ذریعے ایک ایسا علمی سرمایہ فراہم کیا ہے جو طلبہ قرآنیات، اساتذہ، محققین، مترجمین اور علومِ اسلامیہ کے سنجیدہ قارئین سب کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ کتاب کے اختتام پر انگریزی تراجمِ قرآن سے متعلق 22 اہم کتابوں کا تعارف، علمِ ترجمہ کے بنیادی مباحث، نیز اعلام اور کتب کے اشاریے شامل کیے گئے ہیں، جو کتاب کی تحقیقی افادیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
فاضل مصنف نے اگرچہ خود کو مروجہ رسمیاتِ مقالہ نگاری کا پابند نہیں رکھا، تاہم منتشر اور بکھرے ہوئے مواد کو جمع کرکے اسے ایک منظم، مربوط اور تحقیقی قالب میں پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصنیف مستقبل کے محققین کے لیے ایک رہنما کتاب کی حیثیت اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مجموعی طور پر ’’قرآن کریم کے انگریزی تراجم (تحقیقی مطالعہ)‘‘ ایک وقیع اور معلومات افزا مفید تصنیف ہے۔ یہ کتاب نہ صرف انگریزی تراجمِ قرآن کی تاریخ، ارتقا اور تنوع کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ علمِ ترجمہ، قرآنیات، استشراقی مطالعات اور بین المذاہب مکالمے کے میدان میں بھی ایک اہم علمی اضافہ ہے۔ پروفیسر شفقت حسین خادم نے جس محنت، وسعتِ مطالعہ اور تحقیقی دیانت کے ساتھ یہ کام انجام دیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔

0 تبصرے