اتر پردیش میں مجلس اتحاد المسلمین کی دیوانی سیاست
تحریر :عماد عاقب مظفر پوری
21/6/2026
مجلس اتحاد المسلمین نے 2014 میں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد تلنگانہ سے باہر اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن لڑنا شروع کیا ہے ، اور وہ تلنگانہ سے باہر اپنی طاقت سے سینکڑوں گنا زیادہ سیٹوں پر لڑتی ہے ، اور سیکولر پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کی ہار کا سبب بنتی ہے ، مجلس اتحاد المسلمین کی غیر دانشمندانہ سیاست کی وجہ سے بہار و بنگال اور اتر پردیش کی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے ، سیکولر پارٹیاں بڑی مشکل سے 30 ، 35 فیصد مسلم آبادی والی نشستوں پر مسلم امیدوار اتارتی ہیں اور وہاں بھی مجلس اپنے امیدوار اتار کر سیکولر پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کی ہار کا سبب بن جاتی ہے ۔
مجلس کی تلنگانہ والی محتاط اور دانشمندانہ سیاست
تلنگانہ میں مجلس اتحاد المسلمین نے 2018میں صرف 8 اور 2023 میں صرف نو امیدوار اتارے تھے ،ٹ جب کہ وہ وہاں 1962 سے اسمبلی انتخابات لڑ رہی ہے اور اسے 1962سے 2004 تک پرانے حیدر آباد کی چار مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹوں میں سے ایک تا چار سیٹیں ملتی رہی ہیں ، 2008 میں ہوئی اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی میں حیدرآباد میں 7 اسمبلی نشستیں مسلم اکثریتی ہوگئیں ، ان حلقوں میں 52 تا 82 فیصد مسلمان ہیں اور ان ہی 7 حلقوں سے مجلس اتحاد المسلمین 2009، 2014، 2018 اور 2023 میں کامیاب ہوئی ہے۔
مجلس اتحاد المسلمین نے تلنگانہ میں 2009 اور 2014 میں سات نشستوں پر کامیابی کے باوجود 2018میں صرف 8 اور 2023 میں صرف نو امیدوار اتارے تھے ، حیدرآباد کی ہی ان دو نشستوں پر مجلسی امیدوار کامیاب نہیں ہوئے جہاں مسلمان 30 تا 35 فیصد ہیں۔
عظیم حیدرآباد میں کل 24 اسمبلی اور 4 پارلیمانی حلقے ہیں۔
بہار کی کل 40 لوک سبھا حلقوں میں سے 8 پر 2024میں مجلس اتحاد المسلمین نے اپنے امیدوار اتارے تھے ، 4 مسلمان تھے اور 4غیر مسلم ، مگر مجلس نے 2019 اور 2024 میں عظیم حیدرآباد کی ہی سکندر آباد لوک سبھا حلقے سے اپنا امیدوار نہیں اتارا تھا ، جہاں اس کے ایک ممبر لوک سبھا 1984 سے ہیں ، وہاں دوسرا امیدوار نہیں اور جہاں کبھی مجلس کامیاب ہی نہیں ہوئی وہاں سے 8 امیدوار ، ہے نا تعجب خیز بات !
سکندر آباد سے مجلس نے 2004 اور 2014 امیدوار اتارے تھے ، 2004 میں سکندر آباد سے اس کی امیدوار ایک خاتون حمیرا عزیز تھیں اور انہیں صرف 38,394 (3.94%) ووٹ ملے تھے ، 2014 میں اس کے امیدوار ایک ہندو موہن راؤ تھے ، انہیں 145,120 (14.44%) ووٹ ملے تھے ، یوپی اور بہار میں جہاں جہاں مجلس کو دو ہزار اور پانچ ہزار ووٹ ملتے ہیں اور سیکولر پارٹیوں کے مسلم ممبران اسمبلی کی ہار کا سبب بنتے ہیں وہاں اگلے الیکشن میں دوبارہ اپنا امیدوار کھڑا کیا جاتا ہے ، مگر سکندر آباد جہاں 145,120 (14.44%) ملتے ہیں وہاں اگلے الیکشن میں اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا جاتا ہے ، بہار اور یوپی اور دیگر شمالی ہند کے اویسی بھگت مسلمانوں کو اپنے لیڈر کی اس دوہری سیاست کو سمجھنا ضروری ہے۔
عظیم حیدرآباد کی کارپوریشن میں کل 150نشستیں ہیں اور وہ وہاں بھی 50 نشستوں سے زیادہ پر اپنے امیدوار نہیں اتارتی اور 42 یا 41 نشستوں پر کامیاب ہوتی ہے ، یکم دسمبر 2020 کو ہوئے عظیم حیدرآباد کی کارپوریشن کے انتخابات میں مجلس کو 41 نشستیں ملی تھیں ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی کو 43، 43 ، اور انڈین نیشنل کانگریس کو 23نشستیں ملی تھیں۔
تلنگانہ کے شمالی شہروں نظام آباد اور عادل آباد کی میونسپلٹیوں میں مجلس کو چند نشستیں ملتی ہیں ، مگر اس نے وہاں 2018 اور 2023 کے اسمبلی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے۔
اس طرح دیکھا جائے تو مجلس اتحاد المسلمین تلنگانہ میں ایک دانشمندانہ سیاست کرتی ہے ، مگر تلنگانہ سے نکلتے ہی وہ دیوانہ ہوتی چلی جاتی ہے ، اور اتر پردیش میں جاکر اس کی دیوانگی اپنے سب سے زیادہ عروج پر پہونچ جاتی ہے۔
اتر پردیش میں مجلس کی دیوانی سیاست
مجلس کی حیدرآبادی دانشمندانہ سیاست بیان کرنے کے بعد ہم اتر پردیش میں مجلس کی صورت حال دیکھیں۔
اتر پردیش میں مجلس نے 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں کل 94 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے اور ان تمام 94 امیدواروں نے مل کر کل 450,929 ووٹ حاصل کیے تھے ، یہ کل ووٹوں کا 0.49 فیصد ہوتے ہیں، اسے 2017کے مقابلے میں 0.25 فیصد زیادہ ووٹ ملے تھے، 2022میں اسے اوسطاً فی امیدوار 4797 ووٹ ملے تھے۔
مجلس نے 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں کل 38 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے اور ان تمام 38 امیدواروں نے مل کر کل 2,04,142 ووٹ حاصل کیے تھے، یہ ڈالے گئے کل ووٹوں کا 0.24% تھے ۔ مجلس کو اوسطاً فی امیدوار 5372 ووٹ ملے تھے اور اکیلے سنبھل سے مجلسی اُمیدوار ضیاء الرحمن برق کو 59,336( 24.59%) ووٹ حاصل ہوئے تھے ، ضیاء الرحمن برق کو جو ووٹ ملے تھے ان کا دو تہائی ووٹ مجلس کے نہیں تھے ، بلکہ ان کے دادا شفیق الرحمن برق کی پچاس سالہ متحرک سیاست کی وجہ سے تھے ، 2022 میں مجلس کے امیدوار مشیر خاں کو صرف 21,470 ( 8.77%) ووٹ ملے تھے ، مجلس کو 15.82 فیصد ووٹ کا نقصان ہوا تھا ، اور 1996 سے مسلسل کامیاب ہورہے 107,073 (43.73%) ووٹ ملے تھے اور ان کے ووٹوں میں 10.89 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔
ضیاء الرحمن برق 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل دوبارہ سماج وادی پارٹی میں آگئے، 2022 میں سماج وادی پارٹی نے انہیں مراد آباد ضلع اور سنبھل لوک سبھا کے تحت آنے والی کندرکی اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا اور وہ کامیاب ہوئے ، 2024کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ان کے دادا شفیق الرحمن برق کے انتقال کی وجہ سے سماج وادی نے انہیں ٹکٹ دیا اور وہ کامیاب ہوئے۔
شفیق الرحمن برق 1974 میں چودھری چرن سنگھ کی بھارتیہ کرانتی دل ، 1977 میں جنتا پارٹی ، 1985 میں لوک دل اور 1989 میں جنتادل کے ٹکٹ پر سنبھل سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
شفیق الرحمن برق مرحوم (11 جولائی 1930 - 27 فروری 2024)سنبھل سے 2009 میں بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر اور 2019 میں سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر لوک سبھا منتخب ہوئے تھے، اور 1996، 1998 اور 2004میں سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر مراداباد سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوئے تھے۔
2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں مجلس کو شاید سب سے زیادہ ووٹ سنبھل میں ملے تھے ، وہاں مجلس کے امیدوار سنبھل کے موجودہ ممبر پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق تھے ، ان کے دادا شفیق الرحمن برق سماج وادی پارٹی سے سنبھل کے ممبر پارلیمنٹ تھے اور ضیاء الرحمن سنبھل اسمبلی سے سماج وادی کے ٹکٹ پر لڑنا چاہتے تھے ،جب انہیں سماج وادی سے ٹکٹ نہیں ملا تو وہ مجلس کے ٹکٹ پر امیدوار بن گئے ، اور 59,336( 24.59%) ووٹ حاصل کرکے تیسرا مقام حاصل کیا ، بی جے پی کے ڈاکٹر اروند گپتا 59,976 (24.86 %) حاصل کرکے دوسرے نمبر پر تھے ، اور سماج وادی پارٹی کے امیدوار اور سیٹینگ ممبر اسمبلی اقبال محمود نے 79,248 (32.84 %) حاصل کرکے 19,272 (7.98 %) کی اکثریت سے لگاتار پانچویں بار جیت حاصل کی تھی ، وہ 1996 سے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر سنبھل کے ممبر اسمبلی ہیں ،انہوں نے 1991میں جنتا دل کے ٹکٹ پر جیت حاصل کی تھی ، 1993 میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ستیہ پرکاش سے ہارگئے تھے ، اس حلقے سے ضیاء الرحمن برق کے دادا شفیق الرحمن برق 1974 میں چودھری چرن سنگھ کی بھارتیہ کرانتی دل ، 1977 میں جنتا پارٹی، 1985 میں لوک دل اور 1989 میں جنتادل کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، 1980 میں انڈین نیشنل کانگریس ( اندرا) کے ٹکٹ پر شریعت اللہ کامیاب ہوئے تھے ، یہاں کے پہلے مسلم ممبر اسمبلی محمود حسن خاں ہیں وہ 1957 میں بطور آزاد ،1962 میں ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے ٹکٹ پر اور 1969 میں بھارتیہ کرانتی دل کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے،
سنبھل کے ہندو ممبران اسمبلی
1952 میں سنبھل دو نشستوں والی سیٹ تھی ، یعنی ایک ہی سیٹ سے دو امیدوار کامیاب ہوئے تھے ، ایک جنرل اور ایک ایس سی ، اس وقت یہاں سے جگدیش سرن رستوگی اور لیکھراج سنگھ کامیاب ہوئے تھے ، 1967 میں بھارتیہ جن سنگھ کے مہیش سنگھ کامیاب ہوئے تھے ، اور اس کے بعد 1993 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ستیہ پرکاش کامیاب ہوئے تھے ۔
2027 کا مجلس کا بگل
فروری یا مارچ 2027 میں اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ، تمام پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں ، مجلس اتحاد المسلمین نے بھی بہرائچ کے مٹیرا اسمبلی حلقے سے 2027 کا بگل بجا دیا ہے ، اور مٹیرا سے اپنے ریاستی صدر جناب شوکت صاحب کو امیدوار بنایا ہے ، شوکت صاحب بہرائچ کے مٹیرا سے بہت دور اعظم گڑھ ضلع کے رہنے والے ہیں ، مٹیرا سے اعظم گڑھ سب سے قریبی مگر سست راستے سے بھی 289 کلومیٹر ہے اور تیز راستے سے 365کلومیٹر ہے۔
شوکت اور ماریہ کا مقابلہ
مٹیرا بہرائچ کے مٹیرا اسمبلی حلقے کی موجودہ ممبر اسمبلی ماریہ شاہ ہیں ، وہ 2022 میں سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئی تھیں ، 2017 اور 2012 میں یہاں سے ماریہ شاہ کے شوہر سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔
2022 میں ماریہ شاہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اروند ویر سنگھ کو 10,428( 4.91%) ووٹوں کی اکثریت سے ہرایا تھا ، جب کہ 2017 میں یاسر شاہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اروند ویر سنگھ کو 1,595 (0.79 %) ہرایا تھا۔
یہ تو سو فیصد پکی بات ہے کہ شوکت صاحب مٹیرا سے جیت نہیں سکتے ، یہ نہ ان کا علاقہ ہے ، اور نہ ان کی شخصیت بہت بڑی ہے ،، البتہ اگر سماج وادی کے ہندو ووٹکے کھسک گئے اور چند سو یا چند ہزار ووٹ شوکت صاحب کو مل گئے تو ماریہ شاہ ہار سکتی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوسکتا ہے ، اگر ماریہ شاہ ہار جائیں تو اسے ہی مجلس والے اپنی جیت سمجھ لیں گے۔
یوپی کے مسلمان کیا کریں
اتر پردیش کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مجلسی لیڈران کی جذباتی تقریروں پر توجہ نہ دیں اور مجلس کے امیدواروں کو ووٹ دے کر اپنا ووٹ ضائع نہ کریں اور آزاد و مدنی کے راستے پر چلتے ہوئے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کریں ، خاص طور سے سماج وادی پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس کے مسلم امیدواروں کو کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔
عجب دیوانے قائد ہیں
(مجلس کی دانشمندانہ حیدرآبادی سیاست اور اور غیر دانشمندانہ غیر حیدرآبادی سیاست کے تناظر میں ایک ہفتہ قبل لکھی گئی میری یہ نظم گنگنا ئیں اور اس کے پیغام کو عام کریں ، عماد عاقب مظفر پوری )
جہاں ہیں سات ایم ایل اے ،وہاں یہ نو پہ لڑتے ہیں
جہاں زیرو ہیں ایم ایل اے، وہاں دو سو پہ لڑتے ہیں
وہاں جذباتیت حاوی، یہاں دانش کی آقائی
وہاں بڑبولے بنتے ہیں ،یہاں حکمت پہ چلتے ہیں
عجب دیوانے قائد ہیں ،عجب ہیں ان کے پیرو بھی
عجب نعرے لگاتے ہیں ، عجب یہ کام کرتے ہیں
تلنگانہ میں ریڈی سے بڑی ہے دوستی ان کی
مگر اکھلیش و لالو پر بہت جم کر برستے ہیں
اے بھارت کے مسلمانو! سنو عاقب کی باتیں تم
وہ دانا ہیں، مفکر ہیں، سیاست کو سمجھتے ہیں
عماد عاقب مظفر پوری
13/ 6/20226
نوٹ : یہ نظم یہ اعلان سننے کے بعد لکھی گئی تھی ، کہ مجلس اتحاد المسلمین 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں 200 نشستوں پر امیدوار اتارے گی ، مجلس نے 2017 میں 38 اور 2022 میں 94 امیدوار تھے ، مگر ایک بھی کامیاب نہیں ہوا تھا۔
0 تبصرے