سلام : یہ کون لوگ ہیں جو کربلا کو جاتے ہیں
سلام
یہ کون لوگ ہیں جو کربلا کو جاتے ہیں
خدا کے عشق کا رستہ ہمیں دکھاتے ہیں
بجھے چراغ پہ پرکھا گیا مَوَدَّت کو
شہادتوں سے ولا کے دیے جلاتے ہیں
عجب جلال ہے مقتل میں شہ کی آمد کا
عدو یہ دیکھ کے ہیبت سے تھرتھراتے ہیں
حیا کے باب میں اک نام ہے سخی عباسؑ
کٹا کے ہاتھ بھی سقاّئی جو نبھاتے ہیں
علی کے لعل کی معجز بیانیاں دیکھو
سناں کی نوک سے ذکرِ خدا سناتے ہیں
سنا تھا لعل اٹھاتے ہیں باپ کا لاشہ
پسر کی لاش کہاں باپ یوں اٹھاتے ہیں؟
چھپا کے تیرِ ستم، زخمِ ناتواں شبیر
لرزتے ہاتھوں سے ننھی لحد بناتے ہیں
ہماری آنکھوں سے بہتی ہے اب فراتِ الم
ہم اپنے سینوں میں فرشِ عزا بچھاتے ہیں
منصور نقوی
0 تبصرے