شخصیات مقدس نہیں، مگر کردار کشی ہر گز دلیل نہیں
عقیدہ خدا اور بندے کا معاملہ ہے، لیکن اس کی تشریح تو انسانی فہم ہی کرتی ہے نا؟ اور انسان سے خطا ممکن ہے۔ اگر ہم دوسرے کی نیت کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو مکالمہ 'مناظرہ' بن جائے گا۔
ہمارا مسلک یہ ہونا چاہیے کہ انسان کا احترام کرو، چاہے اس کا راستہ تمہارے راستے سے الگ ہی کیوں نہ ہو۔
نیتوں کا حال جاننا خدا کا کام ہے، ہمارا کام تو صرف محبت سے بات کو سننا اور سمجھنا ہے۔
مکالمے کا مقصد دوسرے کو "شکست" دینا نہیں بلکہ خود کو "وسیع" کرنا ہے۔ جب ہم اپنی فہم کو ناقص مان کر اور دوسرے کی نیت کو نیک سمجھ کر بات کرتے ہیں، تو علم کے بند کواڑ خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
وحدتِ وجود (Unity of Being)
ابن عربی کا بنیادی تصور ہے
حقیقی وجود صرف ایک ہے (اللہ)
باقی سب اسی وجود کے ظہور/تجلیات ہیں
سمجھنے کا زاویہ:
کائنات آئینہ ہے، اصل ایک ہے
کثرت نظر آتی ہے، حقیقت میں وحدت ہے
خطرہ کہاں بنتا ہے؟
اگر اسے سطحی یا لفظی لیا جائے تو
لوگ “خالق و مخلوق” کا فرق مٹا دیتے ہیں (جو عقیدے کے خلاف ہے)
وحدتِ شہود (Unity of Witnessing)
احمد سرہندی کی نمائندہ فکر ہے
بنیادی تصور:
وجود ایک نہیں، بلکہ ادراک (perception) میں وحدت محسوس ہوتی ہے
سالک (seeker) پر ایسی کیفیت آتی ہے کہ وہ ہر طرف ایک ہی حقیقت کو دیکھتا ہے
سمجھنے کا زاویہ:
یہ ”experience“ ہے، ontology نہیں
حقیقت میں خالق اور مخلوق الگ ہی رہتے ہیں
فائدہ:
عقیدے کی حدیں محفوظ رہتی ہیں
وحدتِ وجود کہتی ہے ”حقیقت ایک ہے“،
وحدتِ شہود کہتی ہے ”تجربہ ایک لگتا ہے“—
اور درست فہم یہ ہے کہ تجربہ کو عقیدہ نہ بنایا جائے، اور عقیدہ کو تنگ نہ کیا جائے۔
یہ علم ہے اب جو ہمارے سلفی منہاج کے لوگ ہیں انہیں یہ باتیں نہ سمجھ میں آنے کی وجہ سے کفر کے شرک کے فتوے دیتے پھرتے ہیں جیسے خوارج دیتے تھے پھر داعش، بوکو حرام، طالبان جیسی تنظیموں کا اجراء ہوتا ہے ۔
0 تبصرے