شریعت نے جو احکام ازواج مطہرات اور امہات المومنین کے لئے بیان کئے
شریعت نے جو احکام ازواج مطہرات اور امہات المومنین کے لئے بیان کئے ہیں۔ وہی احکام بلاکسی رنگ۔ نسل اور جغرافیائی حدود کے استثنی کے قیامت تک آنے والی امت کی تمام بیٹیوں اورمسلم خواتین کےلئے ہیں۔ کیونکہ مسلم خواتین احکام شریعت میں ازواج مطہرات کے تابع ہیں۔ ”ھذہ آداب امراللہ بھانساء النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ ونساء الامۃ تبع لھن فی ذلک“(تفسیرابن کثیر تحت آیۃ :یانساء النبی لستن کاحد من النساء ان اتقیتن فلاتخضعن بالقول“)۔ لہذا جس طرح احکام شریعت پر عمل کی مکلف امہات المومنین ہیں۔ اسی طرح عام مسلم خواتین بھی ہیں۔ اس وقت شرعی معاملات۔ خاص کر غیر محارم کے ساتھ اختلاط مردوزن۔ بے تکلفیاں۔ شرعی پردے سے بیزاری۔ سروں اور بالوں کو اسکارف سےنہ چھپانا۔ غیر محارم کے ساتھ بلا روک ٹوک ہنسی ۔ مذاق اوریہاں تک کہ ایجوکیشنل پکنک اسفار وغیرہ جیسی بیماری عرب وعجم کی ساری مسلم بچیوں اور معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ جسے اس دور کے مخلوط تعلیمی نظام اور آفسس کے مخلوط ملازمت کلچر نے بطورخاص پروان چڑھایا ہے۔ اب تو غیرمحارم کے ساتھ ہنسی مذاق۔ چائے نوشی۔ فرنڈشپ۔ ۔ فیشن کے نام پر ادھ ننگے۔ بلکہ باہرسے جسم کے خدوخال تک نظر آنے والے بےہودے لباس یونیورسٹی اورکالج سے لیکر عام شادی بیاہ کی پارٹیوں اور فنکشنوں تک میں عام سی بات ہوگئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہےکہ آج ہماری مسلم بچیوں اورعورتوں کی رول ماڈل ازواج مطہرات اورنبی ﷺ کی بیٹیوں کی بجائے۔ دنیاکی رقاصائیں۔ سنگرس۔ فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے والی عورتیں ہیں۔ ایسے تباہ کن شیطانی کلچرسے اپنی نسل کو نکالنا اور بچانایقینا بڑا جہاد ہے۔ اللہ ہمیں ہمت اور توفیق دے کہ ہم احکام خداوندی سے مسلم خواتین کو آگاہ کرا سکیں۔ اور نہایت حکمت۔ موعظت اور دانشمندی سے ان کو پابند شرع بنانے کی کوشش کرسکیں۔ پہلے ہم اپنے گھر کی خواتین اوراپنی بیٹیوں سے اس عظیم مہم کاآغاز کرتےہیں۔ اور اپنی بچیوں میں یہ شعور پیدا کردی کہ وہ فخر سے بول اٹھیں:”ہماری آئڈیل ہماری مائیں اور پیارے نبی ﷺ کی بیویاں اور بیٹیاں ہیں“۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔ طالب دعا۔ ابو شفاء القاسمی۔ دہلی
0 تبصرے