سوچتا ہوں کہ اک نظم لکھوں تیرے لئے : نظم اردو شاعری
عکسِ محبوب
سوچتا ہوں کہ اک نظم لکھوں تیرے لئے
اور اس نظم میں ہر لفظ دھڑکتا پاؤں"
حرف سارے ترے پیکر کے حوالے کر دوں
اور خوشبو کی طرح تجھ کو بکھرتا پاؤں
پھر اُگے سوچ کی دھرتی پہ کوئی پیڑ نیا
جس کے سائے میں زمانوں کی تھکن مٹ جائے
ایسے چھیڑوں تری چاہت کی ردیفوں پہ غزل
کہ مری روح کے اندر کی گھٹن مٹ جائے
خامشی اوڑھ کے رقصاں رہوں تنہائی میں!
اپنے جذبوں کو نئی طرزِ بیاں میں ڈھالوں
تیری آنکھوں کے سمندر سے چُرا کر موتی
شاهِ پورس کی طرح کوئی خزانہ پا لوں
گردشِ وقت کی رفتار بہت تیز سہی
وقت تھم جائے جو چھو جائے تصور تیرا
عکس ایسا ہو کہ صدیوں کا سفر رک جائے
کاش کھینچے کوئی تصویر مصور تیرا
تو جو مل جائے تو مٹ جائے یہ دوری کا ملال
سنگِ مرمر پہ لکھی ایک حکایت کی طرح
ہجر کی شاخ پہ جگنو کی طرح بیٹھی ہے
خامشی بول رہی ہے کسی آیت کی طرح
منصور نقوی
0 تبصرے