Ticker

6/recent/ticker-posts

گرمی کا بیان ہمارے شعراء کی نظر میں Shayari Mein Garmi Ka Bayan

گرمی کا بیان ہمارے شعراء کی نظر میں


بسم تعالی
رب زدنی علما

تحریر براۓ تبصرہ ...

بارے گرمی کا بیان ہمارے شعراء کی نظر میں
حضرات! آج کل گرمی کے بہت چرچے ہیں۔ سورج کا قہر برساتی گرمی، پسینے کی دھاریں بہاتی گرمی، اور جاندار و بے جان کو جھلساتی گرمی، ویسے وطن عزیز میں ہمیشہ کبھی نا کبھی، کہیں نا کہیں، الیکشن کی گرمی عروج پر رہتی ہے مگر موسم باراں کو چھوڑ کراور گرمی میں چناؤ کا تناؤ اکثر ہوتا ہے تاکہ جون کی پہلی بوند پڑنے کے بعد عوام کے ارمانوں پر پانی پھر جاۓ۔ ان کے جذبات سرد پڑ جائیں امیدوں پر اوس پڑ جاۓ نئی صبح طلوع ہونے کی وہ صبح کبھی تو آۓ گی! خیر!

تو صاحب آج کل کی گرمی وجہ سبھی گلوبل وارمنگ پر تھوپ رہے ہیں حضرت انسان کے ہاتھوں لائی آفت جنگل کے جنگل صاف کردیے اور سمنٹ کنکریٹ کے جنگل کھڑے کردیے صنعتی ترقی کے نام پر ہر طرح کی آلودگی سبز انقلاب کا چہرہ زرد چلو تسلیم کیا..مگر کیا آج سے پہلے موسم گرما میں باد سموم کی بجائے باد نسیم اٹھلاتی بل کھاتی چلتی تھی!..اور بےزار بیٹھے کو چھیڑنے اٹکھیلیاں کرتی تھی...کیا لو کے تھپیڑے اور باد صرصر نہ چل کر باد صبا کے خوشگوار جھونکے چلتے تھے اگر یہی ہوتا تو کاہے میر انیس کہتے..

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھن جاتا جو گرتا تھا دانہ زمین پر

اور اس سے ایک قدم آگے فرماتے ہیں..

گر چشم سے نکل کے ٹھہر جائے رہ میں
پڑجائیں لاکھ آبلے پائے نگاہ میں

بھائی!..یہ تو میر انیس ہیں جو تصویر میں ایسے رنگ بھرتے ہیں کہ مانی بھی دنگ رہ جائے
چلو صاحب مان لیتے ہیں..میر انیس صاحب تو مبالغہ سے بہت آگے غلو تک پہنچ جاتے...مگر حالی فرماگئے..

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار
اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار

اور...پھر.. کیا انسان..کیا جاندار..شجر حجر.. سب کا بیان کرنے کے بعد. ..بیان کرتے ہیں.

گرمیاں ہوگئیں اجیرن جب
تونے برسات بھیج دی یارب

سب کے گرمی سے تھے خطا اوسان
مینھ برسنے سے آئی جان میں جان

آمد باراں کے بعد حالی چین کی سانس لیتے ہیں..

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا
اک شور ہے آسماں پہ برپا

یہ تو حالی ہیں.. ہر حال میں مست.. مگر اکبر الہ آبادی کودیکھیے...گرمی سے پریشان ہوکر کہہ رہے ہیں...

پڑجائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلے اکبر
پڑھ کر جو پھونک دے اپریل.مئی.جون

اب پتا نہیں کسی نے اکبر پر پڑھ کر پھونکا یا نہیں..مگر ایک خط میں مذکور ہے..

اس سال گرمی بہت ہے یا میں ناتواں ہوگیا ہوں!!!

ایک بات اور.. جو اکبر فرما گئے..

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آکے لیٹ

یہ دعوے کے ساتھ کہا جاسکتا کہ..اکبر نے دعوت مبارزت ..پاس آکر لیٹنے کی..موسم سرما میں دی ہوگی..گرما میں تو یہ لیٹنا لٹانا..شراب دوآتشہ.ہوجاتا.!!

تو صاحب..چلتے ہیں ناصر کاظمی کی طرف..جو اکثر راتوں کو نکل پڑتے تھے..آوارہ گردی کرنے..شاید دن میں انھیں دھوپ اور گرمی ستاتی تھی..اسی لیے کہہ گئے..

سر پر سورج آپہنچا
گرمی ہے یا روز جزا

اور..ایک بات برسبیل تذکرہ..ناصر کاظمی راتوں میں ..شہر بے چراغ میں گھومتی شب فراق کو گھر لے چلنے پر بضد ہیں..کیونکہ ان کے گھر کی دیواروں پر اکثر اداسی بال کھولے سوتی تھی..بلکہ ٹہنیوں کے ہاتھ بھی پیلے پڑگئے تھے...پتا نہیں شدید گرمی کی وجہ سے..یا کچھ اور بات تھی..

چچا غالب کو پینے اور روزہ کھانے کا بہانہ چاہیے تھا..ایک نہیں رکھا کہہ کر صاف بچ گئے تھے..اور یہ عذر بھی پیش کیا تھا..

جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

یہ بہانہ تو شاید باراں اور سرما کے موسم میں ہوگا..ب گرمی کے موسم میں ..خود کو عاجز قرار دیا یہ کہہ کر..

روزہ مرا ایمان ہے غالب لیکن
خس خانہ و برف آب کہاں سے لاؤں

خیر..یہ تو غالب ہے ..سب پر غالب..اب ان صاحب کو دیکھیے..فرماتے ہیں..

گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو
اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی

یہ تو طے ہے کہ ان صاحب کے مکان کی مشرقی سمت..دروازہ ہوگا یا کھڑکی ہوگی..کیونکہ پروائی تو پورب کی سمت سے ہی چلتی ہے..جن اصحاب کو یہ سویدھا میسر نہ ہو تو وہ کیوں مکان کو کھلا رکھنے کا جوکھم مول لیں..
مولانا آزاد چائے کے رسیا تھے یہ تو جگ ظاہر ہے..چائے کی تعریف میں زمیں آسماں کے قلابے ملا دیے اور چائے میں تین صفات کا ہونا لازمی قرار دیا..کہ

چائے لب بند..لب ریز اور لب سوز ہونی چاہیے..باقی رتوں میں تو ٹھیک ہے..پر گرما میں بھی اگر مولانا لب سوز چائے نوش فرماتے تھے تو..داد تو بنتی ہے صاحب ان کے لیے!!!

ڈاکٹر ارشاد خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے