Ticker

6/recent/ticker-posts

پیش لفظ Pesh Lafj

پیش لفظ


اپنی تیسری کتاب "خیال آرائیاں" پیش کرتے ہوئے مسرت کا احساس ہورہا ہے. حالاں کہ جب میری پہلی کتاب "ابن صفی: کردار نگاری اور نمائندہ کردار" منظر عام پر آئی تھی تو جو خوشی حاصل ہوئی اس کی کیفیت الگ تھی، میری مرتب کردہ کتاب "غضنفر : افسانوں کے روزن سے" جب منظر عام پر آئی، اس وقت خوشی کی کیفیت الگ تھی، اور اب یہ تیسری کتاب. یہ کتاب پچھلے برسوں میں، خاص طور سے اشتراک ڈاٹ کام سے وابستگی کے بعد مختلف سیمیناروں میں پڑھنے کے لیے اور مختلف شعرا و ادبا کی کتابوں میں بہ طور مقدمہ/تقریظ/تقدیم/ شامل کرنے کے لیے لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے. ان میں سے کچھ مقالے مختلف رسائل و اخبارات میں شایع شدہ ہیں.

اردو ادب کی تنقیدی روایت میں وسعت، تنوع اور فکری گہرائی قائم ہوچکی ہے اور ہم جیسے قدرے نئے لکھنے والوں کے لیے اپنی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے اس کی توسیع کے مواقع فراہم ہیں، تاکہ قاری اور قلم کار دونوں کے لیے اس میں کشش باقی رہے۔ بدلتے ہوئے، سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری سیاق میں تنقید محض متن کی تشریح یا محض صاحب متن کی تعریف یا محض نظریے کی تعبیر نہیں رہی اور نہ رہ سکتی ہے بلکہ اسے ادب اور زندگی کے باہمی رشتوں کو نئے زاویے سے منکشف کرنے کا نیا وسیلہ بننا چاہیے۔ زیرِ نظر مضامین کا مجموعہ اسی شعوری تنقیدی رویّے کا مظہر ہے، جہاں متن، صاحب متن، عہد اور نظریہ ایک دوسرے کے آئینے میں مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ میں ادب پاروں میں نظریہ و خیال اور فنی ہنرمندی کے درمیان توازن قائم کرنے میں یقین رکھتا ہوں، فنی ہنرمندی کے بغیر ادب پارے کی محض فکری بنیادوں پر کوئی ادبی اہمیت باقی نہیں رہتی.

تنقید لکھتے وقت بہت دفعہ ایک "ولن" تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ اس کے آئینے میں زیر نظر متن یا صاحب متن کو سمجھنے سمجھانے کی کوشش کی جائے. میری ان تحریروں میں آپ محسوس کریں گے کہ اس رویے سے میں نے شعوری احتراز کیا ہے. میں نے کوشش کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو میرے پاس ہے وہ کیا ہے، کیسا ہے اور کتنا مستفیض کرتا ہے، سوال کے کچھ نئے زاویے سوجھ جائیں، فن کار کی شخصیت کا کوئی پہلو سامنے آجائے، تخلیق کار کی محنت کا خراج اسے مل جائے، تو بات بن جائے. میں نے ادبی اقتدار پرستی سے گریز کرتے ہوئے صوفیانہ تنقیدی رویے کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے. یہی وجہ ہے کہ تقابلی مطالعے میں بھی لہجے کا اعتدال برقرار رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے.

اس کتاب کی ترتیب میں اس بات کا خاص رکھا گیا ہے کہ اس میں شامل مضامین سوانحی تنقید جیسے نظری مباحث سے لے کر افسانہ، ناول، ڈراما، خطوط نگاری، شاعری میں غزل، مثنوی، توشیح اور رخصتی ناموں جیسی نسبتاً کم توجہ پانے والی اصناف تک وسیع ہوں۔ ان مضامین میں تازہ پن ہے یا نہیں اس کی تصدیق و تنکیر قاری کو کرنا ہے لیکن یہ کتاب پیش کرتے ہوئے میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے پامال موضوعات کو ہاتھ نہیں لگایا ہے. اس کتاب میں شاید ہی کوئی ایسا مضمون ہو جس پر اس سے قبل لکھا گیا ہو یا اس طرح سے لکھا گیا ہو جیسے میں نے کوشش کی ہے. سوانحی تنقید: نظریہ، مباحث اور امکانات ایک ایسا مقالہ ہے جو اپنے عنوان کے ساتھ شاید اردو میں پہلی بار لکھا گیا ہے. کتنا کار آمد ہے اس کا فیصلہ بھی قاری کو کرنا ہے. اسی طرح توشیح نگاری کی روایت کی تحقیق اور رخصتی ناموں کی روایت کی تفتیش بھی میری معلومات کی حد تک اردو میں پہلی بار ہوئی ہے.

اس کتاب کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اس میں کلاسیکی اور جدید ادب کے درمیان ایک بامعنی ربط قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شاد عظیم آبادی کی ناول نگاری، ساقی نامۂ اقبال اور مثنوی آب و سراب کا تقابلی مطالعہ، میر و غضنفر کے عشقیہ کردار، دیوان غالب کا عروضی مطالعہ کی انفرادیت جیسے مضامین میں کلاسیکی ادبی وراثت سے اپنا قاریانہ رشتہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی ہے. جب کہ دوسرے مضامین میں اپنے عہد سے ادبی مکالمے کی صورت پیدا کی گئی ہے.

معاصر ادب کے باب میں طارق جمیلی، غضنفر، صادقہ نواب سحر، احسان قاسمی، رفیع حیدر انجم، امان ذخیروی، امام مظہر، مستحسن عزم، خورشید طلب، جہانگیر نایاب اور کامران غنی صبا جیسی شخصیات کے افسانوی اور شعری کارناموں پر مضامین اس بات کی شہادت دیں گے کہ یہ مجموعہ صرف ماضی کی بازیافت نہیں بلکہ حال کے ادبی منظرنامے کی تحقیق، تفہیم و تعبیر اور تشریح و تعیین بھی ہے۔ خصوصاً توشیح نگاری، رخصتی ناموں اور صنعتِ تضاد جیسے موضوعات اردو تنقید کے دائرے کو مزید وسیع کرتے ہیں۔

یہ مضامین نہ تو محض تاثراتی ہیں اور نہ ہی خشک علمی مشق؛ بلکہ ان میں اعتدال و استدلال کے ساتھ امتزاج کا رنگ بھی نظر آئے گا۔ آپ کو یہاں متن کے ساتھ ساتھ عہد، تہذیب اور انسانی تجربے کی بازگشت تو سنائی دے گی ہی، میں نے کئی مرتبہ یہ کوشش کی ہے کہ تحریر کو دل چسپ بھی بناؤں اور اس کے لیے میں نے بیان کی تکنیک میں تجربہ بھی کیا ہے اور زبان میں تخلیقی عنصر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ تحقیق و تنقید تخلیق کے قریب رہ سکے. میں نے اپنی کتاب کو یک نوعی بنانے کے لیے اپنے لکھے تبصروں، انشائیوں، سفرناموں اور افسانوں اور افسانچوں کو اس میں شامل نہیں کیا ہے، انھیں بعد میں الگ مجموعوں کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش ہوگی.

امید ہے کہ یہ کتاب ہمارے قارئین کو نہ صرف معلوماتی اور فکری آسودگی فراہم کرے گی بلکہ طریق کار کی سطح پر تحقیق و تنقید کی تازہ ہواؤں سے بھی فرحت بخشے گی.
طیب فرقانی
موبائل : 6294338044
ای میل: ali1taiyab@gmail.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے