تاریخ ایک تھیسس ہے
وہ کہانی جو اقتدار سے پیدا ہوتی ہے
لیکن اس کے نیچے ایک اینٹی تھیسس بھی ہے
وہ خاموش چیخیں جو ہر آمریت میں دبا دی گئیں
یاد رکھنا چاہیے جب دونوں کی گونج سنی جائے — تب تاریخ میں سچ جنم لیتا ہے۔"
میں سیاست ہوں۔ میں وقت کا رخ موڑتی ہوں۔ کبھی محبت، کبھی خوف۔ میں سروں کی قیمت لگاتی ہوں، میں عوام سے ایک دوسرے کو گھسیٹتے کا وعدہ کرتی ہوں اور اصولوں کو جلسوں میں دفن کرتی ہوں، "
میں مذہب ہوں۔ میں نجات کا وعدہ کرتا ہوں، میں جنت کی سند بانٹتا ہوں۔ لیکن میں وقت کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑا ہوں، اور مجھ سے بولنے کی اجازت نہیں!"
"تم تو روشنی تھے... تم تو ہر قسم کے ظلم وجبر کے خلاف تھے... تم کیسے خاموش ہو گئے؟"
غامدی صاحب نے بڑی پتے کی بات کی انسان کو اپنی تہذیب کرنی چاہئے
مزید فرمایا یہ کام ہے خود احتسابی کا، شدید خود احتسابی کا!
اپنے کو الاؤنس دینے سے انکار کر دینے کا
یعنی غلط کام کر کے انسان تاویلات کرتا ہے
یہ آدمی اس کا مستحق تھا،
اسنے بات ہی ایسی کی تھی
الاؤنس دیتے ہیں اپنے کو یہ بند کردیں جب بھی یہ پیدا ہو کہ میں غلط لفظ بولا میں نے الزام لگایا یہ غلطی ہے اسے ہی تزکیہ کہتے ہیں اپنے کو پاک کرنا یہ لمبی ایکسرسائز ہے اتنی جلدی نہیں ہوگی
خالد
0 تبصرے