میں تو ”آمین“ نہیں کہتا
تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارنپور واٹسپ نمبر 8860931450
مسلمانوں میں اندرونی فرقہ پرستی internal communalism بھی انتہاء پر ہے ، امریکہ - ایران جنگ کی شدت کے زمانے میں احقر ایران کی حمایت میں دعا کراتا تھا ، ایک روز ایک مزدور قسم کے عام مسلمان کہنے لگا کہ جب آپ ایران کی حمایت میں دعا کراتے ہیں تو میں ”آمین“ نہیں کہتا ، آپ یقین کریں یہ سن کر مجھے دھچکا بھی لگا اور افسوس بھی ہوا۔
قارئین کرام ! یہ فرقہ پرستی کی انتہا ہے ، اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم ”امت کے تصور “سے کتنے دور ہیں، فرقہ پرستی کا زہر نہ صرف آخری صف کے آخری آدمی تک پہنچ چکا ہے بلکہ نفرت بھی وہیں تک پہنچ چکی ہے ، دل یہاں تک پتھر ہوچکے ہیں کہ عین جنگ کے موقع پر جبکہ گولیاں دندنا رہی ہیں ، ایران کی فضاؤں میں بمبار جہاز گھن گرج کے ساتھ اڑ رہے ہیں تباہ کن بم برسائے جارہے ہیں اور بارود دھواں اگل رہا ہے ایسے وقت میں بھی اپنے بھائیوں کے لئے نہ منہ سے دعا نکلتی ہے اور نہ آمین ۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سنی دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک حکمراں تنظیمیں و علماء کرام ایران کے ساتھ کھڑے تھے ایران کے لئے دعاؤں کی اپیلیں کر رہے تھے کانفرنس اور میٹنگوں میں ایران کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ عالم اسلام کو جاننا چاہئے کہ یہ جنگ تنہا ایران نے نہیں لڑی ، ہاں یہ سچ ہے کہ میدان جنگ میں شیعہ نوجوان ہی سینوں پر گولیاں کھا رہے تھے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسٹریٹجک طور پر سنی ممالک نے بھی ایران کا بھرپور ساتھ دیا ہے خلیجی ممالک میں سے کسی ایک نے بھی نہ تو ایران پر حملہ کیا ہے اور نہ امریکہ کا ساتھ دیا ، نہ ہی ایران کے لئے کوئی نئی مشکل کھڑی کی مزید یہ کہ معاہدے تک پہنچنے کے لئے ایران کا ساتھ دیا اور امریکہ کو مجبور کیا اور گلی کوچوں کے کچھ نادان مسلمان ایران کے لئے دعا کرتے ہوئے بھی جھجک رہے تھے ، کچھ مسلکی غنڈے ماضی کے ناپسندیدہ واقعات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سوشل میڈیا پر پھیلا رہے تھے ، یعنی اہل تشیع کی نفرت میں اپنی قیادت اپنے علماء اور اپنے مسلک سے بھی انحراف کر رہے تھے ان کی اپیلیں مسترد کر رہے تھے یہ اندرونی فرقہ پرستی کی انتہا ہے جس کا علاج کرنا بہت ضروری ہے اور علاج سے پہلے مذکورہ صورتحال کے اصل ذمے داروں کو بھی پہچاننا ضروری ہے۔
قارئین کرام! اس صورت حال کے اصل ذمے دار عرب حکمراں اور مسلکی علماء دونوں یکساں طور پر ذمے دار ہیں دونوں ہی میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں ملت پر اجارہ داری کا تصور رکھتے ہیں اور یہ ہی تصور ”امت کے تصور“ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
0 تبصرے