Ticker

6/recent/ticker-posts

ذکرِ استادِ محترم - Zikr e Ustad e Mohtaram

ذکرِ استادِ محترم


ڈاکٹر توصیف تبسم مرحوم گورڈن کالج راولپنڈی میں میرے Colleague تھے-میں جب طالب علم تھا تو وہ وہاں پروفیسر تھے۔ بعد میں جب میں نے وہیں سے ایم اے انگلش کیا اور وہیں لیکچرر بنا تو ہم کولیگ ہو گئے، توصیف تبسم نہایت شفیق، ہمدرد، عاجز اور بلند پایہ شاعر و ادبی دانشور تھے۔ میرے ساتھ خصوصی شفقت فرماتے۔ اگر مجھے اُن سے کوئی ادبی مشورہ کرنا ہوتا تو فراغ دلی سے مشورہ دیتے۔ اُن کی اردو کے پروفیسر نقوی صاحب سے گہری دوستی تھی۔ نقوی صاحب میرے ایف اے میں اردو کے استاد تھے۔ وہ بھی نہایت شستہ و شگفتہ مزاج اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ اُن کی اچانک وفات کے بعد توصیف تبسم بہت آزردہ رہنے لگے۔ توصیف تبسم صاحب سے آخری ملاقات اسلام آباد ہوٹل میں ہوئی۔ نیساں اکبر آبادی مرحوم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی تھی۔ توصیف تبسم صاحب کی صدارت تھی اور میں تقریب کا مہمانِ خصوصی تھا۔ یہ ملاقات کئی سالوں کے بعد ہوئی تھی۔ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے مجھے کہنے لگے” تمہاری شخصیت کثیر العباد ہے”۔ میں ہنسا اور کہا حضور کوئی آسان سا لفظ بولیے تاکہ دوستوں کو بھی سمجھ آۓ کہ استادِ محترم نے کیا فرمایا ہے۔ اُن کے یہ الفاظ میرے لیے باعثِ اعزاز ہیں اور آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ انہوں نے کمالِ شفقت سے اپنے دستخط کے ساتھ اپنا شعری مجموعہ” کوئی اور ستارہ” مجھے عطا کیا تھا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
ڈاکٹر مقصود جعفری
۲۴ جون ۲۰۲۶
اسلام آباد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے