روپہلے پردے کا چاند محمد یوسف خاں
جبیں نازاں
نئی دہلی بھارت
11 دسمبر 1922ء لالہ غلام سرور کے یہاں ایک بچہ کی پیدائش ہو تی ہے۔ جس کا نام محمد یوسف رکھا جاتا ہے ! سوچیں ذرا محمد یوسف نام رکھے جانے کے پس پردہ کیا فکر رہی ہوگی ؟؟ بچے پر نظر پڑتے ہی ۔۔بے ساختہ زباں سے محمد یوسف نام زباں سے نکل جانا غیر ارادی عمل نہیں تھا ۔۔کیوں کہ اتنا حسیں بچے کا نام" محمد یوسف" کے سوا دوسرا نام رکھا ہی نہیں جاسکتا تھا 11بھائی بہنوں کے بیچ گویا ستاروں کے جھرمٹ میں ایک 'چاند ' نمودار ہو ا تھا ۔اور یہ چاند ہی تھا جو روپہلے پردے پر دلیپ کمار بن کر چمکا !
میرا ماننا کہ دلیپ کمار جیسی شخصیت فلمی دنیا میں دلیپ کمار سے پہلے تھی نہ اب ہے اور۔نہ ۔۔۔۔۔۔ مستقبل کے بارے کہہ دوں تو ایک مداح کی اندھی عقیدت مندی تعبیر کی جائے گی !یا پھر بعد از مرگ وفور جذبات کی شدت ۔۔۔جب کہ ایسا نہیں ۔۔۔کیو ں کہ امید پر دنیا قائم ہے اور قادر مطلق اس پر قادر ہے کہ یوسف خاں کی طرح تو کیا یوسف خاں سے بہتر بھی اس دنیا میں دوسرا یوسف ثانی بھیج دے! لیکن خدا اس پر بھی قادر ہے کہ وہ نہیں بھیجے کیوں کہ جس طرح ارسطو کے بعد دوسرا ارسطو پیدا نہیں ہوا، شیکسپیئر، پکاسو، لیونارڈ دی ونسی، ہومر،خیام، غالب، ابن خلدوں، رومی،غزالی، اقبال، کے بعد دوسرا پیدا نہیں ہوا ویسے ہی محمد یوسف خاں بھی اپنے آپ میں یکتا و بے نظیر ہے۔
عہد ساز شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو کسی مکتب، درس گاہ، خاندان، یا شہر کی رہین نہیں ہوتی۔
ان کے اندر خدا داد صلاحیت ہوتی ہے ۔۔جو صرف اور صرف خدا کی نظر خاص کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔
دلیپ کمار جیسا نابغہ روزگار جس نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل کوئی فلم تک نہیں دیکھی ہو، اور جب اداکاری کے لیے پیش کش کی گئی تو انھوں نے ادا کاری نہیں کی بلکہ کردار کی زندگی جی کر پردے پر دکھایا ۔۔جس کی نقل آج تک سارے ادا کار کرتے نہیں تھکتے پھر بھی یوسف خاں نہیں بن پاتے خواہ وہ دلیپ کمار کے ہم عصر ہوں یا ان کے بعد کی نسل یا موجودہ نسل۔۔۔
جب کہ سب کے سب اداکاری کی تعلیم پاکر متعدد بھاری بھرکم اسنادلیے ہوئے فلمی دنیا میں داخل ہوتے ہیں، یوسف خاں واحد ایسا ادا کار ہے جس کی جیب ادا کاری کی اسناد سے خالی تھی ۔۔لیکن بالی ووڈ کا اکلوتا منفرد ادا کار تھا جو کردار کے قالب میں خود کو نہیں ڈھالتا تھا، بلکہ اپنے قلب میں کردار اتار لیتا تھا ۔۔اور یہ عمل نہایت دشوار گزار ہوا کرتا ہے ۔۔جس میں انسان اپنی شخصیت بھول جاتا ہے ۔جس کے نتیجے میں اپنے اندر ایک بکھراؤ محسوس کرنے لگتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔بعض اوقات نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ۔۔یوسف خاں اس مرحلے سے گزرے تبھی ایک ڈاکٹر نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ اب آپ سنجیدہ رول پر مزاحیہ رول کو ترجیح دیں!بصورت دیگر آپ ذہنی توازن کھو بیٹھیں گے! ان دنوں تو نہیں لیکن عمر کے آخری پڑاؤ پر اپنی یاد داشت گنوا بیٹھے تھے۔
ان کے معالجوں کا کہنا کہ "شہنشاہ جذبات "کی' جذباتیت' یعنی کہ 'ماضی کی یادوں کے نقوش 'نے ان کے ذہن کو نقصان پہنچایا مغل اعظم فلم یوسف خاں مدھو بالا ہماری ثقافت کی ایس مثال بن گئے جس طرح لیونار ڈ دی ونسی اور مونا لیزا شاہ جہاں اور تاج محل، ہومر اور اوڈیسی، مرزا ہادی رسوا اور امراؤ جان ادا، خیام اور رباعی ۔۔
کہا جاتا ہے کہ دلیپ کمار سلیم کردار کو اپنے وجود میں ضم کرنے کے عمل سے گزرنے کے لیے شوٹنگ سے قبل گھنٹوں پہلے اور بعد میں بھی گھنٹوں اس سیٹ پر جاکر ٹہلا کرتے اور خود کو شاہ زادہ سلیم تصور کیا کرتے تھے، آپ اس بات سے اندازہ کرلیں کہ وہ کردار کو کس طرح جیا کرتے تھے۔۔کوہ نور فلم میں ستار بجانے کی مشق مہینوں کی،ستار نواز کے سامنے زانوئے تلمیذ تہہ کیا، یہاں تک کہ ان کی انگلیاں لہو لہان ہوئیں ۔۔لیکن انھوں نے سیکھ کر ہی دم لیا، کیونکہ انھیں نقالی پسند نہیں تھی، نیا دور فلم میں تانگہ چلانے کا سین تھا، سین کیا تھا پورا ایک نغمہ فلمایا گیا ہے۔
'مانگ کےساتھ تمھارا ہم نے مانگ لیا سنسار '
تانگہ چلانا سیکھا ۔حقیقی رول ادا کرنے کے لیے ۔۔ایک فلم میں اندھے کا کردار ادا کرنا تھا ۔۔ممبئی کے فٹ ہاتھ پر جاکر اندھے بھکاری کے ساتھ تعلق قائم کیا کافی عرصے تک اس کے ساتھ بیٹھے، گفت و شنید کرتے رہے یعنی کہ اس کے درد و تکلیف محرومیوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنے اندر جذب کررہے تھے۔
یہ درد صرف فلم میں کردار نبھانے کی خاطر ان کے دل میں نہیں امڈ پڑا تھا، نجی زندگی میں درد کو سہا جب جب مظلوم و ناداروں کو ان کی ضرورت پیش آتی دلیپ صاحب فوراً اٹھ کھڑے ہوتے خواہ وہ وسیم جعفر کرکٹ کھلاڑی کو لندن کا ویزا دلوانا ہو یا اس کی لندن میں معاشی اعانت کا معاملہ یو، یا پھر کارگل جنگ کے وقت اٹل بہاری واجپائی نواز شریف کو فون کرتے ہیں۔
کہ ایک طرف آپ لاہور میں میرا استقبال کرتے ہیں ۔ دوسری طرف میری زمین پر در اندازی کررہے ہیں؟"
نواز شریف کا جواب ملاحظہ فرمائیں! مجھے نہیں معلوم، میں اپنے فوجی سربراہ پرویز مشرف سے معلوم کرتاہوں"
تب واجپائی نے کہا تھا میرے بغل میں ایک شخص بیٹھا ہوا ہے آپ ان سے بات کرلیں !"
بغل میں بیٹھے ہوئے شخص کے ہاتھ میں فون تھامایا اس شخص نے جیسے ہی سلام کیا
نواز شریف نے کہا ۔اچھا تو آپ ہیں ۔۔۔!
یعنی کہ فوراً آواز پہچان لی !
دلیپ کما ر کی آواز کے زیر وبیم مخصوص لب و لہجہ، برصغیر کا شاید ہی کوئی فرد ہو گا جو اس آواز کو نہ پہچانے۔
بہر حال !دلیپ کمار نے نواز شریف سے کہا ۔۔آپ کو میں بتادوں جب جب یہاں ہندو پاک کے درمیان ایسی صورت پیش آتی ہے یہاں کے مسلمانوں کا گھر سے نکلنا دشوار ہوجاتا ہے ۔۔حالات کی پیچیدگی کا آپ کو اندازہ نہیں!؟"
بابری مسجد انہدام کے وقت موجودہ حکومت سے صرف اپنا احتجاج ہی نہیں درج کروایا بلکہ معروف وکیل ظفر یاب جیلانی سے مل کر ملزمان کے خلاف کیس درج کروانے تک کا معاملہ ۔۔اب یہ الگ بات ہے کہ چند اپنے ہی میر جعفر کی وجہ سے سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف سنادیا، بابری مسجد انہدام کے بعد فسادات کا پھوٹ پڑنا ۔۔یوسف خاں نے متاثرین کے لیے ہر ممکن مدد کی، فساد سے متاثرین کے لیے اپنا گھر کا دروازہ کھول دیا اور انھیں پناہ دی، جب نامہ نگار نے یوسف خاں سے پوچھا
"ممبئی جل رہی ہے ۔آپ کیا کہنے چاہیں گے؟
انھوں نے برجستہ کہا
" ممبئی کہاں جل رہاہے ۔مسلمانوں کی بستیاں جل رہی ہیں!
بہار گئے وہاں کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی دعوت پر بابری مسجد کا قصہ نکل گیا انھوں نے نہایت سنجیدگی سے کہا "سیاست کو چاہئے کہ بابری مسجد کے لیے سیاست چھوڑ دے! "اور پھر جب گجرات میں فساد ہوئے اس وقت بھی وہ بہت پریشان ہوئے ملک کی نفرت پر مبنی سیاست سے بد دل اور نالاں تھے ۔
جب پاکستان نے اس " بھارت رتن " کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز نشان امتیاز دینے کا اعلان کیا ۔۔اس وقت فرقہ پرست عناصر نے بہت واویلا مچایا ۔۔بالا ٹھاکرے کے عروج کا زمانہ تھا، دلیپ کمار کے گھر کے سامنے وی ایچ پی کے کارکنان مظاہرہ کرنے لگے دلیپ کمار کے خلاف نعرہ بلند کرنے لگے دلیپ کمار نے بے باکی کا مظاہرہ کیا اور بالا ٹھاکرے سے دوٹوک کہہ دیا
میں آپ سے نہیں واجپائی جی سے بات کروں گا!
اٹل بہاری واجپائی سے کہا کہ گر مجھے یہ اعزاز ملنے سے ہندستان کی گریما پر آنچ آتی ہے تو میں اعزاز واپس کردوں گا!
واجپائی اپنے مخصوص لب و لہجے میں مسکرائے اور کہا !
"دلیپ صاحب !حتمی فیصلہ آپ کو کرنا ہے! "
دلیپ کمار نے آخری فیصلہ یہ کیا کہ انھوں نے یہ اعزاز واپس نہیں کیا ۔۔
پاکستان نے ملک کا سب سے بڑےاعزاز سے دلیپ کمار کو نواز کر امن و بھائی چارے کی مثال قائم نہیں کی بلکہ یہ بھی ثابت کردیا ۔۔ فن 'فنکار سرحد کی لکیروں سے بالا تر ہوتا ہے ۔۔اور یہ بات ہمارے یہاں شدت پسند عناصر کو ناگوار گزری اور مخصوص نظریے کی حامی سیاسی جماعت نے دلیپ کما ر کے مد مقابل " بگ بی" کو لا کھڑا کیا جی ہاں!آپ درست سمجھے امیتابھ بچن جی ہاں دلیپ کمار بنام امیتابھ بچن فسطائی ذہن کی شعوری کوشش تھی۔ اور سن دوہزار ء میں ایک سروے کروایا گیا اپنے ہی چند حواریوں کے درمیان اور امیتابھ بچن کو صدی کا سب سے بڑا ادا کار تسلیم کروایا گیا جس کے پس پشت سیاسی اقربا پروری تھی اور کچھ نہیں وہی امیتابھ بچن جو خود کہتے ہیں کہ میں دلیپ کمار کے سامنے کام کرتے ہوئے گبھراتا تھا، اور شارٹ دینے سے قبل دلیپ کمار کی ایکٹنگ کئی کئی بار بار دیکھا کرتا تھا، سیاسی شعبدہ بازیاں اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ۔۔ایک مثال اور دیکھ لیں اگر ہند و پاک کی تقسیم نہ ہوئی ہوتی تو ادب کا نوبل انعام رابندر ناتھ ٹیگور کے بجائے علامہ اقبال کو مل گیا ہوتا !
ویسے جہاں چند تنگ نظرافراد پائے جاتے ہیں وہاں اصول پسند اور غیرت مند انسان بھی موجود ہوتے ہیں اس غیرت مندی نے دلیپ کمار کو بھارت کا پدم ویبھوشن ایوارڈ 2015ء میں دینے کا فیصلہ کیا واضح رہے 1991ء میں پدم بھوشن ایوارڈ اور فلم جگت کا سب سے بڑا ایوارڈ دادا صاحب پھالکے 1994ء میں اس 'بھارت رتن 'کو دیا جاچکا تھا دیگر متعدد ایوارڈز کے سوا وہ راجیہ سبھا کی ممبر بھی بنائے گئے ۔لیکن میراماننا کی عبقری شخصیت اعزاز و اکرام سے بلند ہوا کرتی ہے !
دلیپ کمار واحد ایسا ادا کار کہ ادا کاری سے قبل کسی ادا کار کی فلم یا شارٹ کبھی نہیں دیکھی۔۔کیونکہ وہ کردار کو اپنے وجود میں ضم کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا ۔۔ ایک بار کسی نے دلیپ کمار سے دریافت کیا کہ
" ادا کار کسے کہتے ہیں ؟؟"
دلیپ کمار نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا
" ادا کار اسے کہتے ہیں ۔ کہ جو ادا کاری نہ کرے! "
واقعی !وہ ادا کار ی نہیں کیا کرتے تھے ۔ کردار کی زندگی کو پردے پر جی کر دکھایا کرتے تھے'۔ ان کی خاص خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی آنکھوں سے ایسے تاثرات پیش کیا کرتے کہ ان کا ایک تاثر دس مکالمے پر حاوی ہوجاتا، یاد کریں آنکھوں کا وہ تاثر جب فلم مغل اعظم میں دربار میں رقص پیش کرتی ہے رقاصہ یعنی کہ مدھو بالا مشہور زمانہ نغمہ 'جب پیار کیا تو ڈرنا کیا!
دلیپ کمار اور پرتھوی راج چوہان کے آنکھوں کے تاثرات قابل دید تھے۔یا پھر یہ نغمہ "مویے پنگھٹ پر۔۔"
دلیپ کمار کی آنکھوں کے تاثرات وہ سب کہہ ڈالتی ہے جس کا بیان الفاظ ادا کرنے سے قاصر رہتا!
دلیپ کمار صرف ادا کار نہیں تھے فٹ بال کے اچھے کھلاڑی بھی تھے، گر وہ فلمی دنیا میں نہیں آتے تو پھر بہترین فٹ بالر ہوتے ۔ انھیں ادب سے بے پناہ شغف تھا خصوصی طور پر اردو اور انگریزی ادب سے ، ان کا مطالعہ کافی وسیع اور عمیق تھا ۔وہ ادب و سیاست پر گھنٹوں بغیر توقف کے بولنا جانتے تھے ۔۔
حالاں کہ ان کی مادری زباں پشتو تھی ۔لیکن اردو فارسی انگریزی پنجابی مراٹھی انتہائی روانی سے بولا کرتے تھے ۔
دلیپ کمار کی شخصیت ہمہ جہت تھی ۔۔ایک مضمون میں ان جہات کا احاطہ از بس مشکل ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ دلیپ کمار نے فلم بیراگ میں لینا چنداواکر کے لیے یہ نغمہ گنگنایا تھا۔
"سارے شہر میں آپ سا کوئی نہیں "
لیکن فلمی دنیا سے منسلک تمام افراد اور شائقین دلیپ صاحب کے لیے یہ نغمہ گاتے رہے ہیں۔
بہر حال! اپنے ایام کے آخری چند سال انھوں نے 'خود فراموشی کے 'ماحول میں بسر کیے!
11 / دسمبر 1922ء غیر منقسم بھارت کے شہر پشاور میں آنکھیں کھولنے والا "کوہ نور "دنیا کے "میلے "میں کبھی رام شیام بن کر، کبھی شہزادہ سلیم کبھی دیوداس، اور نہ جانے کتنے کردار کا روپ اپنا کر سیر کرتے کرتے بالآخر 7/جولائی بروز چہار شنبہ 2021ء "ہندوجا " اسپتال میں آخری سانس لی !اور بھارت کا انمول رتن ممبئی کے جو ہو قبرستان میں آسودہ خاک ہوا۔
0 تبصرے