دعائے مغفرت ایک مستحب عمل ہے
تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارنپور واٹسپ نمبر 8860931450
قرآن وسنت کے مطابق أہل ایمان کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک مستقل مستحب عمل ہے ، نماز جنازہ بھی ایک قسم کی دعائے مغفرت ہی ہے ، اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعائے مغفرت کے لیے یہاں تک حریص رہتے تھے کہ آپ نے سخت جانی دشمن کے لئے بھی مغفرت کی دعا فرمائی پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اس عمل سے روکا ۔ قرآن مجید نے دو آیتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین اور مشرکین کی نماز جنازہ اور دعائے مغفرت کرنے سے روکا ہے ، تمام مفسرین اور فقہاء نے صاف طور پر صراحت کی ہے کہ یہ ”نہی “مشروط ہے کفر و شرک کے ساتھ ۔ جاری بحث میں ( مولانا سلمان ندوی مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی بحث) یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مولانا سلمان ندوی مرحوم ( متوفی 29/ جون 2026 ) کے کفر اور شرک کا فتویٰ کسی نے بھی نہیں دیا ہاں ”اپنے مسلک سے ہٹا ہؤا“ کہا ، ”گمراہ“ کہا ”ناصبی“ کہا ”رافضی“ کہا مگر یہ کہنے والے بھی انسان ہی ہیں کوئی فرشتے یا نبی نہیں ہے ، مزید یہ کہ کسی کے کہنے سے کوئی کچھ بن نہیں جاتا ، امام ابو حنیفہ ، امام احمد بن حنبل ، امام بخاری رحمہم اللہ سمیت ہر بڑے عالم پر اس کے معاصرین نے الزام لگائے ہیں ، مگر بعد کی تاریخ نے مذکورہ حضرات کو ”امام“ کہا اور الزام لگانے والے تاریخ کے قبرستان میں ایسے دفن ہوئے کہ آج ان کے ناموں میں بھی شدید اختلاف پایا جاتا ہے ، تو صرف الزام لگانے سے کچھ نہیں ہوتا ثابت بھی کرنا پڑتا ہے ۔ مولانا سلمان ندوی مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرنا ہر اعتبار سے ( من کل الوجوہ) ایک جائز عمل ہے اس معاملے میں اگر ،مگر ، رجوع کی شرط ، وغیرہ تمام چیزیں بکواس ہیں الحمدللہ وہ متقی پرہیزگار مسلمان تھے اتحاد امت کے داعی تھے ، ماشاءاللہ مولانا مرحوم نے اہل تشیع کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھایا ۔ انہوں نے مسلمات ایمان میں سے کسی چیز کا انکار نہیں کیا یعنی توحید باری تعالیٰ ، رسالت ، آخرت ، جن چیزوں کا انکار کیا وہ مسلمات ایمان نہیں ہیں بلکہ مسلک و شخصیات کی ایجاد کردہ ہیں ۔ مولانا مرحوم مسلک پرستی اور شخصیت پرستی کے سخت خلاف تھے ۔
محترم قارئین کرام ! بعض حضرات میرے پاس بطورِ ثبوت کے کچھ چیزوں کے بارے میں مولانا سلمان ندوی مرحوم کی بعض مخالف آراء پر مبنی ویڈیوز ارسال کر رہے ہیں ، میری ان سے درخواست ہے کہ وہ اس قسم کی چیزیں ارسال یا اپلوڈ نہ کریں بلکہ ایسا ٹھوس ثبوت پیش کریں جس سے مولانا مرحوم کا ”سلب ایمان “ ثابت ہوجائے اور یاد رکھیے ایسا کوئی ثبوت نہ کسی کے پاس ہے اور نہ اس دنیا میں پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایمان دل و دماغ کی مخصوص کیفیت کا نام ہے جو خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی ہے ، اس کیفیت کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ، کیا آپ نے أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ، حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ والی حدیث نہیں پڑھی ؟ کیا آپ نے پیغمبر اسلام کی یہ وارننگ نہیں سنی ؟ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لا تَحاسَدُوا ولا تَباغَضُوا ولا تَدابَرُوا، وكُونُوا عِبادَ اللَّهِ إخْوانًا... ألا إنَّ التَّقْوَى هَاهُنَا ويُشِيرُ إلى صَدْرِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ۔"ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو (قطع تعلق نہ کرو) اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ سن لو! تقویٰ یہاں ہے" اور آپ ﷺ نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا ۔ اس حدیث میں ہمارا محل استدلال آپ علیہ السلام کا یہ جملہ ہے ألا إنَّ التَّقْوَى هَاهُنَا ويُشِيرُ إلى صَدْرِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ۔" اچھی طرح سمجھ لیں مولانا سلمان ندوی مرحوم کے بارے میں مغفرت کے جواز و عدم جواز کی بحث چلانے والے علماء کرام حدیث کے الفاظ میں ائمۃ المضلین ( گمراہ کرنے والے علماء) ہیں۔

0 تبصرے