Ticker

6/recent/ticker-posts

دانش کا کفن اور ریاست کا ضمیر

دانش کا کفن اور ریاست کا ضمیر


تحریر: راؤ غلام مصطفٰی

ملتان کے محلہ رشید آباد میں پیش آنے والا ایک واقعہ محض ایک خبر نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ثبت ہونے والا ایسا نوحہ ہے۔جس کی بازگشت مدتوں سنائی دیتی رہے گی۔ایک غریب باپ اپنے جوان بیٹے دانش کی میت لے کر قبرستان پہنچا۔مگر اس کے پاس کفن خریدنے کے لیے بھی رقم موجود نہ تھی۔ موت نے بیٹے کو اس سے جدا کر دیا تھا۔لیکن غربت نے اس کا دامن تب بھی نہ چھوڑا۔ آخرکار پولیس کو اطلاع ملی اور پولیس نے کفن کا انتظام کیا اور متوفی دانش کو شرعی طریقے سے سپردِ خاک کیا گیا۔یہ منظر صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ اس ملک کے کروڑوں محروم انسانوں کی داستان ہے۔یہ ایک ایسا الارم ہے جو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے۔کہ آزادی کے اٹھہتر برس بعد بھی غریب آدمی کو نہ جینے کا حق میسر ہے اور نہ مرنے کا وقار۔تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی عظمت کا پیمانہ ان کے محلات، شاہراہوں اور بلند و بالا عمارتوں سے طے نہیں ہوتے۔بلکہ معاشرے کے کمزور ترین شہری کی حالت سے لگایا جاتا ہے۔اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو کفن نہ دے سکے تو اس سے بڑا قومی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس ایک قبر میں صرف دانش نہیں دفن ہوا۔بلکہ ہمارے نظامِ حکمرانی کے بے شمار دعوے، وعدے اور نعرے بھی دفن ہو گئے ہیں۔یہ واقعہ کوئی اتفاقیہ سانحہ نہیں ہے۔بلکہ ایک ایسے معاشی اور سماجی نظام کی ناکامی کا اظہار ہے۔جہاں غربت انسان کا تعاقب زندگی سے لے کر موت تک کرتی ہے۔کتنے ہی دانش ہیں جو بے روزگاری، بھوک، علاج کی عدم دستیابی اور مایوسی کے ہاتھوں خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ کتنی ہی مائیں اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر آنسوؤں کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ اور کتنے ہی باپ اپنی بے بسی کو قسمت کا نام دے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔جو چند برس قبل 21.9 فیصد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں نئے خاندان غربت کی اندھی کھائی میں جا گرے ہیں۔دیہی علاقوں میں محرومی کی شدت اور بھی زیادہ ہے۔جب کہ بعض صوبوں میں نصف کے قریب آبادی بنیادی ضروریات سے محروم زندگی بسر کر رہی ہے۔بے روزگاری کی صورتحال بھی کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔کوئی پردیس کی راہ اختیار کر رہا ہے کوئی ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو رہا ہے۔اور کوئی جرائم کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جب معاشرہ اپنے نوجوانوں کو امید نہ دے سکے تو پھر قبرستان آباد اور شہر ویران ہو جایا کرتے ہیں۔غربت کے باعث ہونے والی اموات کی کوئی جامع سرکاری فہرست موجود نہیں ہے۔مگر ہسپتالوں کے ویران برآمدے، غذائی قلت سے نڈھال بچے اور علاج کے انتظار میں دم توڑتے مریض اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ کہ بھوک بھی قتل کرتی ہے بے روزگاری بھی جان لیتی ہےاور محرومی بھی انسان کو زندہ درگور کر دیتی ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے بڑا سوال حکمرانوں کی ترجیحات کا ہے۔ آخر کیوں اٹھہتر برس بعد بھی عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں؟کیوں اشرافیہ کے لیے مراعات اور عام آدمی کے لیے مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ مقدر بنا دیا گیا ہے؟ کیوں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کے لیے ریاست ماں جیسی ہے لیکن غریب کے لیے سوتیلی؟سیاسی عدم استحکام، کرپشن،بدعنوانی،غیر متوازن معاشی پالیسیاں، مہنگی توانائی اور عوامی فلاح سے بے اعتنائی نے اس ملک کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔جہاں ایک کفن بھی خبر بن جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے نسخوں نے معیشت کے بعض اشاریے تو شاید بہتر کیے ہوں۔لیکن عام آدمی کے چولہے کی آگ ٹھنڈی کر دی ہے۔ اشرافیہ کے دسترخوان وسیع تر ہوتے گئے اور غریب کی تھالی سکڑتی چلی گئی۔یہ بحران محض معاشی نہیں، بلکہ اخلاقی اور انسانی بحران بھی ہے۔ ریاست کا اولین فرض اپنے شہریوں کو خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ہے۔جب یہ ذمہ داریاں پوری نہ ہوں تو پھر آئین کی دفعات اور ترقی کے دعوے محض الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ملتان کے اس قبرستان میں اتارا جانے والا دانش دراصل ہم سب سے ایک سوال پوچھ رہا ہے۔کیا یہی وہ وطن تھا جس کے خواب دیکھے گئے تھے؟ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کے لیے لاکھوں قربانیاں دی گئیں؟ اگر ایک انسان کو مرنے کے بعد بھی عزت نصیب نہ ہو تو زندہ رہنے کے دعوے کس قدر کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ حکمرانوں کے خطابات نہیں،بلکہ مظلوموں کے آنسو یاد رکھتی ہے۔آنے والی نسلیں شاید بڑے منصوبوں اور بلند دعووں کو فراموش کر دیں۔ مگر وہ اس باپ کی بے بسی کو ضرور یاد رکھیں گی جو اپنے جوان بیٹے کے لیے کفن تک نہ خرید سکا۔دانش کی قبر پر رک کر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ غربت کو تقدیر کا نام دے کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے جسے اجتماعی شعور، دیانت دار قیادت اور منصفانہ نظام کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب غربت کا کفن صرف انفرادی میتوں کے لیے نہیں ہو گا۔ بلکہ پورے معاشرے کی انسانی قدروں کے لیے تیار ہوگا۔ اور جب قوموں کے ضمیر دفن ہو جائیں تو قبرستانوں میں خاموشی نہیں، تاریخ کی چیخیں سنائی دیا کرتی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے