شاعری کی چوری
چوریاں صرف سونے چاندی، مال و متاع اور زر زمین ہی کی نہیں ہوتیں، بلکہ اب تو کچھ غیر مرئی چیزوں کی بھی چوری ہونے لگی ہے۔ یوں تو کسی بھی چیز کا چرا لینا جرم ہی کے دائرے میں آتا ہے، مگر شاعری کی چوری نہایت ہی سنگین ہوا کرتی ہے۔ زیر نظر ویڈیو میں یہی وہ گویا ہیں! جو گزشتہ کل 15/ جولائی 2026ء کو گھوڑاسہن روڈ، ڈھاکہ، مشرقی چمپارن میں "ایک شام ماہی کے نام" سے منعقدہ مشاعرہ کے اسٹیج سے میرے اشعار کی نسبت اپنی جانب کر کے جھوٹی داد بٹورنے کی مذموم حرکت کر رہے ہیں۔ ناچیز کے اولین شعری مجموعہ "گردش ایام_2021ء" میں نعتیہ قطعات کے زمرے میں یہ اشعار موجود ہیں۔ آپ میرے ایک دو اشعار نہیں، پورا پورا مجموعہ پڑھیے، اور مجمع میں پڑھیے۔ مگر پڑھنے سے پہلے اپنے نام پہ لفظ "شاعر" کا لیول نہ لگائیے۔ بلکہ اصل شاعر کا حوالہ دے کر اپنی اواز دے لیں۔ پھر چاہے جتنی داد ملے بٹور لیں، جتنے ہدیے تحفے ملیں سمیٹ لیں۔ مگر ان اشعار کا انتساب کسی بھی طور اپنی جانب نہ کریں۔
شاعری ایک بڑی امانت ہے، اور اس امانت میں خیانت ایک شاعر کے سوکھے ہوئے خون کو کھولانے والا عمل شنیع ہے۔ ان اشعار کے حروف جنہیں آپ سرعام اپنی نسبت سے پڑھ رہے ہیں یقیناً ایک شاعر نے انھیں حروف کی تحریری شکل کے لیے روشنائی کی جگہ اپنا خون بکھیرا ہے۔ تب جا کر قرطاس ابیض پر یہ مصرعے اگ آئے ہیں۔ ایک با مروت اور زندہ ضمیر شاعر ہونے کی حیثیت سے مجھے آپ کی یہ حرکت نہایت ہی ناگوار محسوس ہوئی۔ بنا بریں اس شناعت پر میں شدید مذمت بیان کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ معذرت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آئیندہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ان بے حوض حرکتوں سے باز آنے کا پیمان اٹھائیں گے۔ شکریہ۔
ظفر امام حبیبی
چندن بارہ، مشرقی چمپارن (بہار)
0 تبصرے