شہداء کی حرمت پوری قوم کی مشترکہ امانت ہے
تحریر حافظ خلیل احمد سارنگزئی
بلوچستان ایک مرتبہ پھر غم اور الم کی چادر میں لپٹ گیا۔ دہشت گردی نے ایک بار پھر ہمارے وطن کے بہادر پاک فوج، ایف سی، لیویز، پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ صرف چند جانوں کا ضیاع نہیں، بلکہ ایسے گھروں کے چراغ بجھے ہیں جن کی روشنی پر پورے خاندانوں کی زندگیاں قائم تھیں۔ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے جوان ہوں یا دہشت گردی کا نشانہ بننے والے بے گناہ شہری، یہ سب اس وطن کا قیمتی سرمایہ اور پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے، اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
ہنہ اوڑک کے شہداء کے لواحقین اور علاقے کے معتبرین نے اپنے دکھ، اپنے خوف اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے۔ ان کا مقصد کسی ذاتی مفاد کا حصول نہیں تھا، بلکہ اپنے علاقے میں امن کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ، عوام کی جان و مال کا تحفظ، ریاستی اداروں کی مؤثر موجودگی، چیک پوسٹوں کا قیام، اور ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنا تھا کہ آئندہ نہ کوئی فوجی، نہ کوئی ایف سی یا لیویز کا جوان، نہ کوئی پولیس اہلکار، اور نہ ہی کوئی بے گناہ شہری دہشت گردی کا شکار ہو۔
حکومت اور متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، ان کے مطالبات پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی، اور اسی بنیاد پر دھرنے کے اختتام کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسے موقع پر سوشل میڈیا پر یہ کہنا کہ “یہ لوگ بک گئے ہیں” نہایت افسوسناک، غیر منصفانہ اور دل آزاری کا باعث ہے۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، مگر جن گھروں سے جنازے اٹھے ہوں، جن ماؤں کی گود اجڑ گئی ہو، جن بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہو، ان کے بارے میں زبان استعمال کرتے وقت ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی جواب دہی کو ضرور یاد رکھنا چاہیے۔
مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ کئی کئی دن تک شہداء کی میتیں تدفین کی منتظر رہیں۔ ذرا تصور کیجیے، ایک ماں اپنے جوان بیٹے کے جنازے کے پاس بیٹھی ہو، ایک باپ اپنے لختِ جگر کی میت کو دیکھ رہا ہو، ایک بیوہ اپنے شوہر کی جدائی کا صدمہ سہہ رہی ہو، اور معصوم بچے اپنے والد کی آخری جھلک کے منتظر ہوں۔ یہ وہ درد ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔
اسلام ہمیں میت کی جلد از جلد تکریم اور تدفین کی تعلیم دیتا ہے۔ شہید کی عزت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اسے احترام اور وقار کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے۔ اس لیے اگر مذاکرات کے ذریعے ایسا راستہ نکل آئے جس سے مطالبات پر پیش رفت بھی ہو، عوام کو بھی ریلیف ملے، اور شہداء کی باوقار تدفین بھی ممکن ہو جائے، تو اسے کمزوری یا سودا بازی نہیں بلکہ دانشمندی، ذمہ داری اور خیر خواہی سمجھنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طویل دھرنوں سے عام شہری بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ مریض، طلبہ، خواتین، بزرگ، مزدور، مسافر اور روزگار کے لیے نکلنے والے ہزاروں افراد مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ اس لیے اگر افہام و تفہیم، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے مسئلے کا حل نکل آئے تو یہی ایک مہذب، ذمہ دار اور باشعور معاشرے کی علامت ہے۔
ہماری حکومت، ریاستی اداروں اور تمام متعلقہ ذمہ داران سے پرخلوص اپیل ہے کہ زیارت کے شہداء کے معاملے میں بھی فوری سنجیدگی اختیار کریں، لواحقین کے دکھ کو محسوس کریں، ان کے جائز مطالبات کو ترجیح دیں، اور ایسا ماحول پیدا کریں کہ شہداء کی باوقار تدفین بھی ہو، متاثرہ خاندانوں کو انصاف بھی ملے، اور آئندہ ایسے المناک سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔
ہم عوام سے بھی دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسی باتیں نہ کریں جو پہلے سے زخمی دلوں کو مزید زخمی کر دیں۔ الفاظ کبھی کبھی تلوار سے بھی گہرے زخم لگا دیتے ہیں۔ اختلاف ضرور کیجیے، لیکن انصاف، اخلاق، انسانیت اور احترام کے دائرے میں رہ کر۔
آئیے! ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ شہداء کے خون کو نفرت، تقسیم اور الزام تراشی کا ذریعہ نہیں بنائیں گے، بلکہ اتحاد، امن، انصاف اور قومی یکجہتی کی بنیاد بنائیں گے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، باہمی اعتماد، قومی اتحاد، عوامی تعاون اور ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے سے بھی ہوتا ہے۔
آج بلوچستان کو سب سے زیادہ ضرورت الزام تراشی کی نہیں، بلکہ اخلاص، تحمل، حکمت، اتحاد اور امن کی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے، اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے، تبھی دہشت گردی کے عزائم ناکام ہوں گے۔ دشمن کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بدگمان ہو جائیں، جبکہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا اتحاد، ہماری بصیرت اور ہمارا باہمی اعتماد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطنِ عزیز پاکستان، خصوصاً بلوچستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پاک فوج، ایف سی، لیویز، پولیس، دیگر سیکیورٹی فورسز اور تمام شہریوں کی حفاظت فرمائے، تمام شہداء کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، زخمیوں کو مکمل صحت عطا فرمائے، اور ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم اختلاف کے باوجود اپنے شہداء کی عزت، اپنے وطن کی سلامتی، اور اپنی قومی یک جہتی کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
0 تبصرے