صموئیل بیکٹ کا ڈراما - Waiting for Godot
20ویں صدی کا سب سے اہم ادبی شاہکار ہے بلکہ انسانی وجود کی سب سے ایماندار آواز بھی ہے۔
آج ایک ایسی جگہ جانا ہوا جہاں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا اور عمر کے 85...88 برس کی دُھند نے ہر شے کو اپنے گھیراؤ میں لے رکھا تھا۔ یہ دونوں بزرگ میاں بیوی کے روبرو بیٹھ کر یوں لگا جیسے سیموئل بیکٹ کے معروف ڈرامے ’ویٹنگ فار گوڈو‘ کا کوئی ڈرامائی منظر حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آ گیا ہو۔ پانچ اولادوں کے ہوتے ہوئے بھی اس ویران چاردیواری میں بسنے والی وہ مطلق تنہائی، اور اس پر ان کی وہ لایعنی بے سمت گفتگو جس کا نہ کوئی سِرا تھا نہ منزل—سب کچھ وجودی بے معنیٰ پن کا پتا دے رہا تھا۔ آپس میں معمولی باتوں پر ایک طفلانہ جھگڑا اور تکرار بھی دراصل اس گھٹن زدہ خاموشی کو توڑنے اور بوجھل وقت کو کاٹنے کی ایک ناپائیدار کوشش ہی معلوم ہوتی تھی۔
اس منظر کو دیکھ کر طبیعت میں ایک عجیب سی بے چینی اور ملال گھلنے لگا۔ جس عمر میں انسان کو اپنوں کا قرب اور سکون میسر ہونا چاہیے تھا، وہاں امید کی واحد کرن بس موت کا وہ انتظار تھا جو اس لاحاصل اور بے مقصد کشمکش سے حتمی نجات دلا سکے۔ زندگی کے اس آخری موڑ پر نہ کوئی ماضی کا فخر بچا تھا اور نہ ہی آئندہ کا کوئی آسرا؛ بس ایک ایسا جمود تھا جس میں ہر ڈھلتا دن پچھلے دن کا عکس معلوم ہوتا تھا۔ رشتوں کا یہ سنسان زوال اور زندگی کی یہ تلخ حقیقت انسان کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے، جہاں کائنات کا سارا شوروغُل ایک بھیانک تنہائی میں بدل جاتا ہے۔
زندگی اکثر بے منطق، بے ترتیب اور بے مقصد لگتی ہے۔
لیکن اس بے معنویت کے باوجود جینا پڑتا ہے۔ انتظار کرنا پڑتا ہے
سموئیل بیکٹ کے ڈرامے میں دو آدمی — ولادیمیر اور ایسٹراگون — ایک بے نام سڑک کے کنارے گوڈو کا انتظار کر رہے ہیں۔
وہ جانتے بھی نہیں کہ گوڈو کون ہے، نہ یہ کہ وہ آئے گا یا نہیں۔ پھر بھی وہ انتظار کرتے رہتے ہیں۔
خودکشی بھی ناکام ہو جاتی ہے — رسی ٹوٹ جاتی ہے۔
یعنی موت بھی انہیں آزادی نہیں دے سکتی۔ وہ زندہ رہ کر انتظار کرتے ہیں، اور مر کر بھی انتظار ہی کرتے رہتے ہیں۔
ڈرامے کا اختتام بڑا طنزیہ (ironic) اور شاعرانہ ہے۔
پہلے ایکٹ میں درخت بالکل بنجر ہے۔
دوسرے ایکٹ میں اسی درخت پر چند پتے پھوٹ آتے ہیں۔
یعنی زندگی بے معنٰی انتظار میں گزر رہی ہے، مگر فطرت اپنا چکر چلاتی رہتی ہے۔
امید کی ایک بے بنیاد جھلک، پھر وہی خالی پن۔
خالد
0 تبصرے