Ticker

6/recent/ticker-posts

کیا آپ بھی وہ ہی سوچ رہے ہیں جو سب سوچ رہے ہیں

کیا آپ بھی وہ ہی سوچ رہے ہیں جو سب سوچ رہے ہیں


سب وہی دیکھ رہے ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا آپ بھی وہ ہی سوچ رہے ہیں جو سب سوچ رہے ہیں؟؟

بارہویں صدی میں ذرا عالمِ اسلام کا نقشہ دیکھیے۔ نقشہ ایسا تھا کہ اگر آدمی ایک طرف سے دیکھے تو خلافت، دوسری طرف سے دیکھے تو سلطنت، اور تیسری طرف سے دیکھے تو دعوائے حقانیت نظر آئے۔
مصر میں فاطمی خلافت تھی، بغداد میں عباسی خلافت براجمان تھی، اندلس میں بنو امیہ اپنی الگ شان سے بیٹھے تھے، اور شام و عراق میں ترک حکمران آہستہ آہستہ اپنا چرچا بڑھا رہے تھے۔
ہر طرف تخت تھا، تاج تھا، خاندانی شجرے تھے اور ماضی کے حوالے تھے۔ ہر دربار کے پاس اپنے بزرگوں کی فہرست بھی تھی اور اپنے حق میں دلیل بھی۔
غرض عالمِ اسلام میں حکمرانوں کی کمی نہ تھی۔
کمی اگر تھی تو صرف اس بات کی کہ جب وقت پکارے تو کون اٹھتا ہے۔

کہتے ہیں ایک رات نورالدین زنگی نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی۔ خواب میں دو اشخاص کی طرف اشارہ ہوا اور مدینہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ روایت ہے کہ یہ خواب بار بار آیا۔ نورالدین مدینہ پہنچا، وہاں تفتیش ہوئی، دو اشخاص کا سراغ ملا اور ان کے مکان سے ایک زیرِ زمین راستہ برآمد ہوا جو حجرۂ مبارک کی سمت کھودا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ بعد کے مدنی تاریخی ماخذوں، خصوصاً سَمْہودی کی روایت میں محفوظ ہوا ہے۔
یہاں تاریخ کا ایک عجیب سوال سامنے آتا ہے:
اگر اس واقعے کو اس دور کی مسلم سیاسی دنیا کے آئینے میں دیکھا جائے تو پیغام کس کے پاس آیا؟
مصر کے فاطمیوں کے پاس جو حضرت علی کی نسل سے تھے ۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔
بغداد کے عباسیوں کے پاس جو آنحضرت کے چچا حضرت عباس کی نسل سے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔
اندلس میں بنو امیہ کے امویوں کے پاس ۔۔۔ ۔۔۔نہیں۔
پیغام ملا تو شام کے اس ترک حکمران نورالدین ذنگی کو ملا

شاید تاریخ کا سبق نسب کی نفی نہیں، ذمہ داری کی ترجیح ہے۔ 
اہلِ بیت کا احترام اپنی جگہ، خلافتِ عباسیہ اپنی جگہ، فاطمی روایت اپنی جگہ، بنو امیہ اپنی جگہ؛ مگر جب کوئی مقدس امانت خطرے میں ہو تو تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ تمہارا خاندانی شجرہ کیا ہے۔ وہ یہ دیکھتی ہے کہ تم اس امانت کے لیے کھڑے ہوتے ہو یا نہیں۔
نورالدین زنگی ترک تھا؛ مگر اس لمحے اس کی نسبت صرف ترک ہونا نہیں تھی۔ اس کی نسبت مدینہ سے تھی۔
اسی لیے شاید اسلامی تاریخ میں ترکوں کا کردار محض تلوار کا کردار نہیں رہا۔ سلجوقیوں سے عثمانیوں تک، ترک سلطنتیں عرب سرزمین کی سیاسی تاریخ میں بارہا محافظ اور منتظم کے طور پر سامنے آئیں۔
لیکن اس واقعے کا سب سے بڑا سبق شاید ترک اور عرب سے بھی آگے ہے۔
رسول اللہ ﷺ کسی قوم کی ملکیت نہیں۔
نہ عربی ہونے سے قربت کا اجارہ ملتا ہے، نہ عجمی ہونے سے فاصلے کا حق۔ 

مدینہ نے اس رات شاید یہی بتا دیا تھا کہ امت کی عظمت نسبوں کی کثرت میں نہیں، امانت کی حفاظت میں ہے۔
اور تاریخ کے اس باب میں ایک ترک سلطان کھڑا ہے—
جس کے سامنے نہ بغداد کا دعویٰ تھا، نہ قاہرہ کی خلافت، نہ قرطبہ کی شان۔
خالد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے