بارش پر شاعری اردو غزل بارش پر اشعار
غزل
لب پہ آئی ہی نہیں کوئی دعا بارش میں
خوف ہی کچے گھروندے کا رہا بارش میں
گیلی دھرتی پہ تو جل تھل کا سماں تھا ہر سُو
پھر بھی ہم لوگ رہے آبلہ پا بارش میں
اس کو رحمت ہی کہا جاتا ہے دنیا میں مگر
اَن گِنٙت رنج بھی ہیں میرے خدا بارش میں
تیری یادوں نے بڑی دیر رلایا مجھ کو
بند کمرے میں بھی میں بھیگ گیا بارش میں
جانتا تھا کہ تُو ہمسایہ نہیں ہے مِرا اب
پھر بھی میں چھت پہ کئی بار گیا بارش میں
کل تصور میں ترے کاندھے پہ بازو رکھ کر
ننگے پاؤں میں بہت دیر چلا بارش میں
ابر چھا جائے تو محتاط ہی رہنا مجھ سے
کیا بتاؤں مجھے ہو جاتا ہے کیا بارش میں
آفتاب ایک تو افلاک سے برسا بادل
ایک ساون مِری آنکھوں سے بہا بارش میں
آفتاب عالم قریشی
0 تبصرے