دُوسری محرم - محرم الحرام پر شاعری
دُوسری محرم
اے چاند کربلاء کے
تم نے تو دیکھا ہوگا
اک پھول کربلا کے
سینے پہ چند ماہ کا
اے چاند نینوا کے
وہ چاند سیدہؑ کا
وہ شیر فاطمہؑ کا
اُس ماہِ کربلاء کا
عباسِؑ باوفا کا
چہرہ تو یاد ہے نا ؟
اے چاند کربلاء کے
تم نے تو مصطفیؑ کا
آباد کنبہ دیکھا
اسوارِ مصطفیؑ کا
در گورِ نینوا کا
اور عکسِ مرتضیؑ کا
چہرہ تو یاد ہے نا ؟
تاریک کربلاء کے
اے چاند نینوا کے
دیکھو اِدھر تو آ کے
زینبؑ کے چاند دیکھو
یہ عونؑ اور محمدؑ
دجلہ کے ساحلوں پہ
قاسمؑ کا عکس دیکھو
عکسِ حسنؑ کو دیکھو
کرب و بلاء کے اَحمر
آؤ دکھاؤں اکبرؑ
وہ ماہتاب شاہؑ کا
ہم شکلِ مصطفیؑ کا
چہرہ تو یاد ہے نا ؟
منظر بدل کے دیکھو
اب شام چل کے دیکھو
رَن سے نکل کے دیکھو
بیچارگی میں لرزاں
اسلام رو رہا تھا
قرآن مصطفیؑ کا
پامال ہو رہا تھا
قانون اُس خدا کا
اِیقان کا ہدیٰ کا
کمزور ہوتے ہوتے
موہوم ہو چلا تھا
تاریکیوں کا ہالہ
مقسوم ہو چلا تھا
جن و ملک خدا کے
دھرتی کے اور سماء کے
گھبرا کے تک رہے تھے
کچھ نالیوں کے کیڑے
کیا کچھ نہ بَک رہے تھے
کب کوئی دین آیا ؟
کیونکر وحی بھی اتری ؟
اور کب مبینؑ آیا ؟
ایسے میں انبیاءؑ کا
جانان اتقیاءؑ کا
روحان سیدہؑ کا
دل جان مرتضیؑ کا
احمدؑ کا چین آیا
اے دوسری محرم
اے چاند کربلاء کے
دیکھو حسینؑ آیا
چہرہ تو یاد ہے نا ؟
آغا ظہور
دوسری محرم 2020
لاہور، پاکستان
0 تبصرے