Ticker

6/recent/ticker-posts

اور جنات نے رقم غائب کردی

اور جنات نے رقم غائب کردی!


تحریر: توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارنپور واٹسپ نمبر 8860931450

ایک مفتی صاحب کو اپنی بیٹی کو شادی میں گاڑی دینی تھی، مساوات کا حوالہ دیتے ہوئے دوسری بیٹیوں نے آسمان سر پر اٹھالیا کہ ہم کو بھی گاڑی دو جب آپ نے خدیجہ (فرضی نام ) کو گاڑی دی ہے، اہلیہ محترمہ نے بیٹیوں کے مطالبے کی تائید کردی تو مفتی صاحب کے ہاتھ پیر بندھ گئے اور چاروں خانے چت ہوگئے، اب مفتی صاحب رات دن پریشان کہ کیا کیا جائے؟
 چنانچہ مفتی صاحب، بیٹیوں کے مطالبے اور بیوی کی تائید کی سہ رخی کشمکش میں شیطان کی انٹری ہوتی ہے، مفتی صاحب کا چندہ اچھا خاصا تھا بیرون ملک بھی جاتے تھے، تو مفتی صاحب نے بھرپور چندہ کیا، خوشی خوشی عید الفطر ادا کی اور مدرسے میں آگئے، اچانک ایک روز مفتی صاحب نے اور ان کی محترمہ نے ہنگامہ برپا کردیا کہ دس لاکھ روپے غائب ہوگئے، ہائے میں تو لٹ گئی پٹ گئی وہ پیسے تو مدرسے کے تھے ہمارے نہیں تھے، وغیرہ وغیرہ ۔ دہلی رہتے ہوئے یہ بات میرے سامنے بھی آئی، میں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ایسا نہیں ہوتا یہ سب جھوٹ اور فراڈ ہے اگر آپ کے پیسے حقیقت میں چوری ہوئے ہیں یا غائب ہوئے ہیں تو آپ پولیس اسٹیشن جائیں اور رپورٹ درج کرائیں، ہوسکتا ہے پولیس کچھ رشوت وغیرہ لے مگر چور کو پکڑ کر آپ کے حوالے کر دے گی یا حقیقت سے پردہ اٹھا دے گی ۔ آپ یقین کیجیے مفتی مذکور نے میری بات پر کان ہی نہیں رکھا اور دو چار دن تک عاملوں ( جو برصغیر کے مسلمانوں میں ایمان کے برخلاف توہمات پھیلانے کے ذمے دار ہیں) کو بلاتے رہے اور یوں معاملے پر پردہ ڈال دیا گیا۔ کچھ دن بعد مفتی مذکور کے گھرانے کے ایک صاحب نے بتلایا کہ مفتی صاحب نے پانچوں بیٹیوں کو گاڑی یا گاڑی کی رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یوں جنات کے رقم لے جانے کا عقدہ کم از کم مجھ پر تو عیاں ہوگیا۔
میں نے اس واقعہ کا ذکر بہت سے ساتھیوں سے کیا کہنے لگے کہ ممکن ہے ایسا ہؤا ہو ! ۔ میں نے کہا امکان کی حد تک تو ٹھیک ہے، آپ کچھ بھی فرض کرسکتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا ہؤا ہے اس کی کیا گارنٹی ہے ؟ اور پھر دنیا میں عدالت، گواہ، پولس، انکوائری، جانچ ایجنسیاں، قسم وغیرہ کی کیا حیثیت باقی رہے گی ؟ مزید یہ کہ اگر جنات کسی کی رقم پر ہاتھ صاف کرسکتے ہیں تو دنیا بھر کے بینکوں کی دولت کیوں آج تک محفوظ ہے ؟ وہاں کسی جن کی رسائی کیوں نہیں ؟ آخر مفتی صاحب کے پیسے ہی کیوں جنات کے ہتھے چڑھ گئے ؟
 قارئین کرام ! مفتی مذکور اس واضح بلنڈر خیانت اور دھوکے کے باوجود آج بھی مرجع خلائق ہیں وہ آج بھی بدستور ”حضرت مفتی صاحب“ ہیں وہ آج بھی خوف خداوندی پر بیان کرتے ہوئے ہچکی باندھ کر رو پڑتے ہیں، وہ تسبیح گھماتے ہیں، وہ ذکر و اذکار کی بھرمار رکھتے ہیں وہ ”اللہ اللہ“ کی ضربیں لگاتے ہیں مگر ہوس پرستی کے جنات سے اپنی دولت نہیں بچا سکے ۔ 
نوٹ : اگر یہ مضمون کسی پر بعینہ منطبق ہوجائے تو اس کو اتفاق سمجھیں ہم نے کسی کا نام نہیں لیا۔
28/ اپریل 2026

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے