Ticker

6/recent/ticker-posts

نوائے عشق : لباسِ عشق میں تو بھی اگر مستور ہو جائے

نوائے عشق : لباسِ عشق میں تو بھی اگر مستور ہو جائے

لباسِ عشق میں تو بھی اگر مستور ہو جائے
ہمارے پیار کا قصہ صنم مشہور ہو جائے

مرے معشوق مجھ کو مسکرا کر دیکھ لے جو تو
ترا عاشق تہہِ دل سے ترا مشکور ہو جائے

ہمارے پیار کا اقرار تو کر لے اگر جاناں
خوشی سے دل ہمارا عشق میں مغرور ہو جائے

مرے ساقی پلا دے مست آنکھوں سے مجھے ایسا
طبیعت عمر بھر کے واسطے مخمور ہو جائے

سکونِ قلب کی خاطر مری آغوش میں آ جا
ترا دل بھی محبت میں ذرا مسرور ہو جائے

محبت میں نہ جانے کب سہانا دن وہ آئے گا
مرا محبوب بھی جب وصل کو مجبور ہو جائے

یقیناَ وہ حسیں لمحہ بہت ہی پرکشش ہوگا
ستمگر کو مرا یہ عشق جب منظور ہو جائے

وہی اس دارِ فانی میں رہے مر کر نہ کیوں زندہ
وفا کی رہ گزر پر چل کے جو مغفور ہو جائے


مری جاں تو اگر اک موقعء خدمت عطا کر دے
غزالی جان و دل سے بس ترا مزدور ہو جائے

محمد مصطفےٰ غزالی ، عظیم آباد
9798993200 : 8409508700

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے