Ticker

6/recent/ticker-posts

اسلام شکارپوری کے شعر کہ یوں تو زمیں پر بہت آدمی ہیں خدا کی ہے رحمت یہ انسان ہونا کی تشریح

اسلام شکارپوری کے شعر کی تشریح

شعر:

؎ کہ یوں تو زمیں پر بہت آدمی ہیں
خدا کی ہے رحمت یہ انسان ہونا

تشریح:

شاعر اسلام شکارپوری اس شعر میں انسان اور انسانیت کے فرق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں بے شمار آدمی موجود ہیں، کیونکہ آدمی ہونا صرف ظاہری شکل و صورت اور جسمانی وجود کا نام ہے، لیکن حقیقی انسان بننا ایک بلند اخلاقی اور روحانی مقام ہے۔

انسان وہ ہے جس کے دل میں محبت، ہمدردی، رحم، اخوت، ایثار اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبات ہوں۔ ایسے اوصاف ہر شخص میں نہیں پائے جاتے۔ اسی لیے شاعر کے نزدیک انسانیت کی صفات سے آراستہ ہونا اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت اور نعمت ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف آدمی بن کر جینا کافی نہیں، بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور اعمال کے ذریعے ایک سچا انسان بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جو شخص انسانیت کی قدروں کو اپناتا ہے، وہی معاشرے میں عزت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے۔

مرکزی خیال:
دنیا میں آدمی بہت ہیں، مگر حقیقی انسان وہی ہے جو اعلیٰ اخلاق اور انسانیت کی صفات کا حامل ہو، اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔

غزل

بدلتے جہاں سے نہ انجان ہونا
خزاں ۓ چمن پر نہ حیران ہونا

جو آتے ہیں دانا فریبِ جہاں میں
ہے میری نظر میں وہ نادان ہونا

ہے وقتِ نزع پر عمل کا اثر یہ
عدم کا سفر بھی یوں آسان ہونا

خدا کا کرم ہے یہ علم و ادب بھی
امیری سے اپنی نہ پہچان ہونا

نہ آزادیاں ہیں طویلِ سفر کی
حدودِ چمن بھی ہے زندان ہونا

کہ یوں تو زمیں پر بہت آدمی ہیں
خدا کی ہے رحمت یہ انسان ہونا

وہ بخشے گا اسلام اب یوں ہی تجھ کو
بھگو کر کے آنکھیں پشیمان ہونا
اسلام شکارپوری
شکارپور
انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے