عدل خیر کا معیار کہاں سے آتا ہے؟
بات شہادتِ حسینؓ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک عظیم سانحہ پیش آیا؛ بلکہ یہ بھی کہ اس واقعے کے اندر یہ سوالات موجود ہیں:
حکمران کی اطاعت کی حد کیا ہے؟
کیا ہر غالب حکمران جائز ہوتا ہے؟
ظلم کے مقابلے میں خاموشی بہتر ہے یا مزاحمت؟
ریاست کی وحدت زیادہ اہم ہے یا حق کی گواہی؟
کیا سیاسی استحکام کے لیے باطل اقتدار کو قبول کیا جا سکتا ہے؟
ایک دیندار انسان جابر حکومت کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرے؟
یہ سب سوالات مل کر پولیٹیکل تھیوری بناتے ہیں، یعنی سیاست اور اقتدار کے بارے میں ایک نظری فہم۔
سادہ لفظوں میں
اگر کوئی کہے:
”شہادتِ حسینؓ میں ایک پولیٹیکل تھیوری موجود ہے“
تو اس کا مطلب یہ ہوگا:
کربلا صرف رونے کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اقتدار کا اخلاقی جواز کیا ہے، ظلم کے سامنے مؤمن کا موقف کیا ہونا چاہیے، اور دین و سیاست کا تعلق کس نوعیت کا ہے۔
کربلا میں کم از کم تین سیاسی نظری سوال کھڑے ہوتے ہیں:
1) Legitimacy of Power —
اقتدار کا جواز
یزید کے پاس طاقت تھی، ریاست تھی، فوج تھی، نظم تھا۔
مگر سوال یہ تھا: کیا صرف طاقت اقتدار کو جائز بنا دیتی ہے؟
امام حسینؓ کا جواب عملاً یہ تھا: نہیں۔
2) Resistance vs Stability —
مزاحمت یا استحکام
بعض لوگ کہتے ہیں: فساد سے بچنے کے لیے خاموش رہو۔
کربلا سوال اٹھاتی ہے: اگر استحکام ظلم کی قیمت پر ہو تو کیا وہ استحکام واقعی خیر ہے؟
3) Moral Witness — اخلاقی گواہی
کبھی انسان کامیابی کے لیے نہیں، بلکہ تاریخ کے ضمیر پر گواہی ثبت کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
یعنی:
”میں شاید نظام نہ بدل سکوں، مگر میں یہ ضرور بتا دوں گا کہ یہ نظام حق پر نہیں۔“
خالد
0 تبصرے