Ticker

6/recent/ticker-posts

اصل کام سے زیادہ کریڈیٹ لینے کی فکر

اصل کام سے زیادہ کریڈیٹ لینے کی فکر

ہمارے یہاں اکثر اصل کام سے زیادہ کریڈیٹ لینے کی فکر دیکھی جاتی ہے۔ کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہو، فیصلہ باقی ہو، سرکاری منظوری نہ آئی ہو، پھر بھی بعض لوگ ایسے شور مچانا شروع کر دیتے ہیں جیسے سب کچھ طے ہو چکا ہو۔ نتیجہ یہ کہ سنجیدہ کوششوں سے زیادہ کریڈیٹ کی دوڑ نمایاں ہونے لگتی ہےاور تحریک کمزور ہوجاتی ہے۔

نئے ڈگری کالجوں میں اردوکی شمولیت پر فی الحال صرف معزز گورنر صاحب نے سفارش کی ہے۔ نہ محکمۂ تعلیم کی جانب سے کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، نہ سفارش قبول کیے جانے کی کوئی باضابطہ اطلاع آئی ہے۔ لیکن کریڈیٹ کی سیاست اس شدت سے شروع ہو چکی ہے کہ کہیں کوئی دوسرا اس کا سہرا اپنے سر نہ باندھ لے۔

معزز گورنر صاحب نے اپنے حصے کا کام کیاجس کے لیے قابل تعریف ہیں،لیکن فیصلہ ساز محکمے کی طرف سے جب تک نوٹیفکیشن نہیں آ جاتا، کچھ کہنا جلدبازی ہے۔

آدھے لوگ تو اصل معلومات کے بغیر اخبار میں چھپاہٹ بھی شروع کر چکے ہیں، تصویروں میں مسیحا بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن کاغذات پر ابھی سرکاری دستخط بھی نہیں ہوئے، ان پر کریڈیٹ کے دعوے ضرور ثبت ہونے لگے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض حضرات کو اصل فیصلے سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کل تاریخ لکھے گی کس کا نام۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کام نہ ہوا تو کریڈیٹ کے یہ تمام دعوے بھی ہوا ہو جائیں گے، اور اگر کام ہو گیا تو عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ تصویر میں کون آگے کھڑا تھا۔

اس وقت ضرورت کریڈیٹ بانٹنے کی نہیں، نتیجہ حاصل کرنے کی ہے۔ کیونکہ اصل کام نوٹیفکیشن کا ہے، کاغذی کارروائی کا ہے، جہاں سے ہونا ہے وہاں سے کچھ نہیں ہوا ہے تو کریڈیٹ کس بات کی۔کامیابی سے قبل کامیابی سمجھ لینا ناکامی ہے،کوشش جاری رہنی چاہیے کہ تحریک کامیاب ہو۔

محمد شارب ضیاء رحمانی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے