بڑا بھائی اور فاصلہ : افسانہ
﷽
ارحم تیزی سے گاڑی بھگاتا ہوا جلدی میں گھر پہنچا تھا اب ہارن بار بار تیز آواز سے بجا رہا تھا اور گارڈ کو دروازے تک آتے کچھ وقت لگ گیا اسے یہ جاننا تھا کہ کہیں اس کا چھوٹا اور جان سے پیارا بھائی واقعی گھر چھوڑ کر چلا نہ گیا ہو۔
کل شام ہی انکی اس موضوع پر بحث ہوئی تھی راحم اب اپنی الگ دنیا بسانا جانا چاہتا تھا جہاں اسے کوئی روک ٹوک نہ ہو اور وہ دنیا کو اپنی نظر سے دیکھ سکے اور خود کو ازماسکے۔ ویسے تو ارحم کی طرف سے اس پر کوئی پابندی تو نہ تھی لیکن پھر بھی کچھ اخلاقی حدود ضرور تھیں کہ جن کی اسے پاسداری کرنا ہوتی تھی۔
جیسا کہ اس کے دوستوں میں صرف "بہت اچھے" لوگ ہی شامل ہوں اسے ہلکے معیار کے لوگوں سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ اور وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ برے لوگ برے کیسے بن جاتے ہیں وہ " بھلائی " سے دور کیسے ہو جاتے ہیں وہ اچھے لوگوں میں شامل کیوں نہیں ہوسکتے۔
اس نے ان لوگوں سے بات کی جو عام انسانوں سے کٹ چکے تھے معاشرے سے ہار مان کر اس سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ اس نے ان میں انسانیت کو تلاش کرنا چاہا کہ آخر وہ بھی تو انسان ہی تھے۔ اس نے دیکھا کہ وہ بھی بھلائی کو پسند تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تھے ۔
چونکہ انکا زیاددہ وقت بیکار کاموں میں گزرتا تھا پس انکا عملی ذوق تبدیل ہوچکا تھا۔ راحم نے چاہا کاش وہ ان میں سے کسی ایک کو ہی زندگی کی طرف واپس لوٹاسکتا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے ابتداء کہاں سے کرنا ہوگی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہم عمر یوں بے مقصد زندگی میں نفرتوں کا شکار ہو کر خود کو ضائع کردیں۔
اور آج کافی عرصے کے بعد وہ پہلی بار مسجد کے باہر کھڑا تھا کسی عالم دین سے یہ پوچھنے کے لیے کہ برائی سے بھلائی تک کا سفر کیسے ممکن ہوا کرتا ہے، کوئی اپنی پرانی عادتیں کیسے چھوڑسکتا ہے اور کوئی خود کو کیسے بدل سکتا ہے؟
پس عالم صاحب نے اسے بتایا کہ " جو جہاں ہے وہیں سے سچی توبہ کے زریعے واپسی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے رب تعالیٰ اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہے۔ یوں اس کے لیے بھلائی کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔
بس اسے پاکیزگی سے دوستی کرنا ہوگی اور بھلائی کے راستے پر سوچنا ہوگا اس کی ہر مثبت سوچ اس کی زندگی کو بدل سکتی ہے کیونکہ وہ جس طرف بھی قدم بڑھاۓ گا اسی طرف اس کے لیے راستے کھلتے چلے جائییں گے۔ یوں بھلائی کی طرف اسکا اٹھنے والا پہلا مضبوط قدم بلندیوں پر موجود اسکی منزل سے جڑا ہوگا۔ان شاء اللہ۔
راحم کی سوچ اور مقصد کو دیکھتے ہوۓ بڑے بھائ کی طرف سے اب اس پر سے ہر قسم کی پابندی کسی حد تک ہٹ چکی تھی کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی "غلط " قبول کرلینے والوں میں سے نہیں ہے بلکہ بگڑے ہوؤں کی اصلاح چاہتا ہے اور انہیں معاشرے کے مفید شہری بنانا چاہتا ہے۔ زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر چلنے لگی اور گھر کے حالات بہتر ہونے لگے۔
آج کا دن بہت خوبصورت تھا راحم کا دوست زین اس کی الفت و شفقت بھری کوششوں سے زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا اور اپنے تعلیمی سفر کو پھر سے شروع کرچکا تھا اس عہد کے ساتھ کہ وہ بھی وہ سب کچھ کر دکھاۓ گا جو کہ دنیا کو بدلنے والے کیا کرتے ہیں۔ اس نے دل سے سچی توبہ کی اور اہنے رب تعالی سے مثبت راستوں پر چلنے کا عہد بھی کیا۔ جس نے اسے پراعتماد بنا دیا اور معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بھی دیا۔
وقت پر لگا کر تیزی سے اڑتا رہا اور آخر وہ خوشگوار دن بھی آن پہنچا جب ارحم کا سر فخر سے بلند ہوا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا اس دن اسکا مان رکھنا یاد آیا جب وہ گھر چھوڑ کر جانے سے رک گیا تھا اور آج وہ دونوں مل کر اس ایک خوبصورت سے تعلیمی ادارے کا افتتاح کر رہے تھے جس کی بنیاد زین نے رکھی تھی۔
زین اپنے وطن کے ان "محروم بچوں کے مستقبل کی زمہ داری لے چکا تھا جن کا کوئی سہارا نہ تھا۔ اور اب وہ دوسرے سب ساتھیوں کے ساتھ مل کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کو تیار تھے۔ اور اچھے لوگوں کی ایک ٹیم اس کے ساتھ تھی جو اس کے لیے دعاگو بھی تھے اور اس کے مشن میں اس کے مددگار بھی۔
ازقلم
نورالصباء
0 تبصرے