Ticker

6/recent/ticker-posts

منظوم ”پنج سورہ“ شاعر : طیّب آزاد شیر کوٹی : اجمالی جائزہ

منظوم ”پنج سورہ“ شاعر : طیّب آزاد شیر کوٹی : اجمالی جائزہ


اسلم چشتی پونے انڈیا

اُردو زبان میں قرآن اور احادیث کے ترجمے عالم و فاضل لوگوں نے کیے ہیں اور تفسیرِ قرآن کے نُسخے بھی ہماری زبان میں موجود ہیں۔ لیکن اس آسمانی کتاب کے مفاہیم اتنے اور اور ایسے ہیں کہ عام تو کیا خاص اذہان کی پہنچ وہاں تک نہیں ہو پاتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ عربی اور اُردو سے واقف عالم قلمکاروں نے اُردو کے قارئین کو بڑی حد تک مطمئن کیا ہے۔ اس کی مثالیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے علم کے طالب شوق سے مطالعہ کرتے ہیں۔ نثر میں تو اس مواد کی کمی نہیں لیکن نظم میں یہ کام کم کم ہی ہو پایا ہے اور جو کچھ ہُوا ہے وہ اعلٰی سطح کا اور معیاری ہوا ہے۔ اس کام کے نُسخے آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔

موجودہ دور میں کچھ عالم فاضل قلمکاروں نے وقتاً فوقتاً آیاتِ قرآن اور احادیث کے منظوم ترجموں سے دلچسپی لی ہے اور آسان اُردو میں بہتر کام انجام دیا ہے۔ ایسے کم قلمکاروں میں جواں سال شاعر طیّب آزاد شیر کوٹی کا نام ان دنوں دینی حلقوں میں روشن اور نمایاں ہے۔ ان کی پہلی کتاب سورہء عمّم (منظوم ترجمہ) جب چھپ کر قارئین کے ہاتھوں میں آئی تو لوگوں نے اسے آنکھوں سے چوما اور شاعر کی داد دی۔ عام قارئین کے علاوہ اماموں، خطیبوں اور شہر قاضیوں نے نہ صرف زبانی داد و تحسین سے نوازا بلکہ تحریری طور پر اعتراف بھی کیا ہے۔ کتاب میں شامل آراء کے اقتباسات مُلاحظہ فرمائیں۔

" اللہ تعالٰی آزاد صاحب کی سعئ بلیغ کو دنیا و آخرت میں کامیاب فرمائے آمین"

( شہر قاضی شیر کوٹ محمد رفیق قاسمی، کتاب ہذا ص 5 )

" طیّب آزاد جیسا کہ میں نے عرض کیا اُردو شعر و ادب کا ایک شناخت شدہ نام ہے۔ انہوں نے زیرِ نظر" پنج سورہ " میں دو مکّی سورہ اور تین مدنی سورہ کو منظوم کیا ہے، جو یقیناً دوسری پیشکش کے طور پر منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ اُمّید ہے کہ یہ بھی پارہ عمّ کی طرح مقبولیت حاصل کرے گا۔ ترجمہ منظوم کرنا بہت مشکل عمل ہے، مُجھے خوشی ہے کہ طیّب آزاد اس کوشش میں کامیاب ہوئے ہیں "

( معروف شاعر، صحافی، نقّاد نظام ہاتف، کتاب ہذا، ص 6)

" جناب طیب آزاد شیر کوٹی بھی ان خوش قسمت انسانوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے نہ صرف شعر گوئی کی صلاحیت عطا کی ہے بلکہ یہ توفیق بھی دی کہ اس کی عطا کردہ صلاحیت اس کی راہ میں کام آ جائے "

( مولانا عبد الغفار صدیقی سیکریٹری ادارہء ادبِ اسلامی ہند کتاب ہذا ص 9 )

اہلِ علم و دانش کی ان آراء سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شاعر کی کوشش رائیگاں نہیں گئی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ" منظوم پنج سورہ " کی ہر حال میں اہمیت ہے۔ ناچیز، کم علم کو اس کتاب کی قرآت کا موقع ملنا خوش نصیبی ہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ شاعر طیّب آزاد سے میرے مراسم مشفقانہ ہیں، میں ان کی شعری صلاحیتوں سے واقف بھی ہوں اور معترف بھی!

اس کتاب میں آیت الکرسی، سورہء یٰسین، سورہء فتح، سورہء رحمٰن، سورہء جمعہ، سورہء مزمّل، کے منظوم ترجمے درج ہیں۔ ہر ترجمے کی پیشانی پر سورہ کا نام ہے اور آیات کی تعداد بھی لکھی ہوئی ہے اور یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ سورہ مکّی ہے یا مدنی۔ ترجمے کی زبان شفّاف اور سہل ہے۔ بحر رواں اور مترنّم ہے۔ اب مواد کی روح تک ان کی پہونچ کسقدر مؤثر، مفید کار آمد اور معیاری ہے۔ ناچیز کم علم یہ بتانے سے قاصر ہے۔ جہاں تک میری سمجھ ہے میں نے محسوس کیا کہ طیّب آزاد نے ترجمے کے ذریعے اصل کی روح کو چھونے کی پوری کوشش کی ہے، ان کے ترجمے کے دو ابتدائی مگر بنیادی نمونے مُلاحظہ فرمائیں۔

اصل : اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم

ترجمہ : مرے مولا مُجھے محفوظ رکھ مردود شیطاں سے
جسے روزِ ازل سے دشمنی ہے نیک انساں سے

اصل : بسم اللہ الرحمن الرحیم

ترجمہ : ہے اس کے نام سے آغاز جو برتر ہے بالا ہے
جو بے حد مہرباں ہے اور نہایت رحم والا ہے

طیّب آزاد کے فن ترجمہ کی ان دو مثالوں پر میں اکتفا کرنا مناسب اس لیے سمجھتا ہوں کہ اس سے قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ دیگر مواد کا معیار کیا ہے کیسا ہے؟ سہل زبان میں مفہوم کی ادائیگی کسقدر عُمدہ ہے۔

اس کتاب کے سلسلے میں میں طیّب آزاد کے الفاظ نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں مُلاحظہ فرمائیں۔

" الحمدللہ میری دوسری کاوش" پنج سورہ منظوم " آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل منظوم ترجمہ" سی پارہء عمّ " کی اشاعت پر جو تاثرات تحریری طور پر یا بذریعہ فون آئے، وہ اللہ ربّ العزت کے بیش بہا انعامات ہیں۔ میں یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآنی آیات کے تراجم و تفاسیر کو ملحوظِ نگاہ رکھتے ہوئے جو مفاہیم ذہن پر روشن ہوئے، خاکسار نے انہیں تخلیقی جامہ پہنانے کی حتی المقدور سعی کی ہے۔ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کلامِ اللہ کا حق کسی طور بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ تو پھر، میں کیا، میری اوقات کیا "

( طیّب آزاد، اپنی بات، کتاب ہذا، ص 10)

اس اقتباس میں شاعر کا موقف نیت اور مقصد ظاہر ہوتا ہے۔ انھوں نے بڑے عجز و انکساری سے اپنی بات کہی ہے جو قابلِ ستائش ہے۔

مجموعی طور پر یہ کتاب قوم کے لیے ایک خوبصورت اور اہم تحفہ ہے۔ اس کے مطالعے کی بھی ضرورت ہے تبلیغ کی بھی اور حفاظت کی بھی۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ طیّب آزاد کی پہلی کتاب " عمّ" پر بھی مُجھے لکھنے کی سعادت ہوئی اور دوسری کتاب منظوم " پنج سورہ " پر بھی لکھنے کا موقع ملا۔

میری دعا ہے کہ طیّب آزاد اس مقدّس کام کو انجام دیتے رہیں ثواب حاصل کرتے رہیں اور قوم کی اشد ضرورت پوری ہوتی رہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے