Ticker

6/recent/ticker-posts

بلوچستان کو امن کی تلاش ۔ گولی نہیں بولی

بلوچستان کو امن کی تلاش ۔ گولی نہیں بولی


تحریر حافظ خلیل احمد سارنگزئی


فراغت کے لمحات میں میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کتابوں، اخبارات، تحقیقی مضامین اور قومی امور پر لکھی جانے والی تحریروں کا مطالعہ کروں تاکہ اپنے علم میں اضافہ بھی ہو اور وطنِ عزیز کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکوں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے جب بھی ملکی حالات، خصوصاً بلوچستان کی صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو دل بے حد مضطرب ہو جاتا ہے۔ بار بار یہی احساس جنم لیتا ہے کہ اگرچہ میری آواز بہت بڑی نہیں، مگر ایک ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے مجھے اپنی سوچ، اپنے احساسات اور اپنی تشویش عوام تک ضرور پہنچانی چاہیے، کیونکہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب اہلِ قلم، دانشور، سیاسی قیادت اور عوام مل کر مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ان کے حل کی طرف قدم بڑھائیں۔ بلوچستان آج ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں چلنے والی ہر گولی صرف ایک انسان کی جان نہیں لیتی بلکہ امید، اعتماد، امن اور روشن مستقبل کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری بدامنی، دہشتگردی، خونریزی، سیاسی بے یقینی اور احساسِ محرومی نے اس عظیم خطے کے عوام کو بے شمار دکھ دیے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے سیکیورٹی اہلکار اپنے والدین، شریکِ حیات، بچوں اور گھروں سے دور دشوار گزار پہاڑوں، وادیوں اور سرحدی چوکیوں پر وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے شب و روز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ شدید موسم، مسلسل خطرات اور بے شمار قربانیوں کے باوجود وہ پاکستان کے امن و استحکام کے لیے سینہ سپر رہتے ہیں۔ جب کوئی فوجی یا سیکیورٹی اہلکار جامِ شہادت نوش کرتا ہے تو صرف ایک خاندان اپنے پیارے سے محروم نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم اپنے ایک محافظ اور ریاست اپنے ایک مخلص سپاہی سے محروم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی بے گناہ شہری، مزدور، تاجر، استاد، طالب علم یا مسافر دہشت گردی کا نشانہ بنتا ہے تو اس کا دکھ بھی پوری قوم کا مشترکہ دکھ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وردی میں ملبوس سپاہی ہو یا عام شہری، ہر پاکستانی کی جان یکساں قیمتی ہے، کیونکہ خون کسی کا بھی بہے، نقصان پاکستان ہی کا ہوتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے، مگر افسوس کہ یہ خطہ برسوں سے بدامنی، دہشت گردی، سیاسی کشیدگی، معاشی پسماندگی، احساسِ محرومی اور باہمی عدم اعتماد جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے، جنہوں نے نہ صرف صوبے کی ترقی کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو محض سیکیورٹی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے سیاسی، سماجی، معاشی اور آئینی نقطۂ نظر سے بھی سمجھا جائے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر حالات کو قابو میں لا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف انصاف، اعتماد، شفاف طرزِ حکمرانی اور بامقصد مکالمے کے ذریعے ہی قائم ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست، سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، دانشوروں، نوجوانوں اور تمام جمہوری قوتوں کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے تاکہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے آئینی اور جمہوری ذرائع سے حل کرنے کی روایت مضبوط ہو۔ جب عوام کو یہ احساس ہوگا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کے جائز مسائل کو اہمیت دی جا رہی ہے تو اعتماد کی فضا خود بخود بحال ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی، مساوی انصاف، شفاف حکمرانی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، باعزت روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ جب نوجوان کے ہاتھ میں کتاب، ہنر اور روزگار ہوگا تو شدت پسندی، تشدد اور مایوسی کی سوچ خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔ ترقیاتی منصوبوں، صنعتی زونز، تعلیمی اداروں اور بنیادی سہولیات میں مقامی آبادی کی مؤثر شمولیت سے احساسِ محرومی کم ہوگا اور قومی یک جہتی مزید مستحکم ہوگی۔ وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد، شفافیت، باہمی تعاون اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی ترقی کی حقیقی ضمانت بن سکتی ہے۔ اسی طرح میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، اہلِ قلم اور سول سوسائٹی پر بھی یہ قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نفرت، تقسیم اور تصادم کے بیانیے کے بجائے اتحاد، بھائی چارے، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں، کیونکہ اختلافات ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں مگر کامیاب قومیں انہیں تشدد سے نہیں بلکہ دانش، مکالمے اور آئینی راستوں سے حل کرتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کریں کہ آنے والی نسلوں کو نفرت، انتقام اور خونریزی نہیں بلکہ امن، ترقی، امید اور استحکام کا پاکستان دیں گے۔ بلوچستان کے عوام، سیکیورٹی فورسز، سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور تمام قومی قوتیں اس وطن کی برابر کی شریک ہیں، ان کا درد بھی مشترک ہے اور مستقبل بھی مشترک۔ اسی لیے یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بلوچستان کا مسئلہ گولی سے نہیں بلکہ بولی سے، طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے، اور محاذ آرائی سے نہیں بلکہ انصاف، ترقی، قومی یکجہتی اور مسلسل مکالمے سے حل ہوگا۔ یہی بلوچستان کے روشن مستقبل کا راستہ ہے اور یہی پاکستان کے پائیدار امن و استحکام کی ضمانت بھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے