Ticker

6/recent/ticker-posts

بال کی کھال اتارنا : زیادہ نقط چینی اپنوں سے دور کردیتا ہے

بال کی کھال اتارنا : زیادہ نقط چینی اپنوں سے دور کردیتا ہے


ایک گاؤں میں مرزا صاحب نام کے ایک بزرگ رہتے تھے۔ وہ دل کے برے نہیں تھے، لیکن انہیں ہر بات کی گہرائی میں جانے اور "بال کی کھال اتارنے" کی شدید عادت تھی۔ کوئی بھی معاملہ ہوتا، وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک اس کے پرزے پرزے نہ کر دیں۔

ایک دن ان کے پڑوسی اسلم نے ایک خوبصورت نیا موٹر سائیکل خریدا۔ وہ خوشی خوشی مرزا صاحب کو دکھانے لایا تاکہ وہ مبارکباد دیں۔ مرزا صاحب نے موٹر سائیکل کو دیکھا، ایک گہری سانس لی اور اس کا معائنہ شروع کر دیا۔

”اسلم میاں! رنگ تو ٹھیک ہے، لیکن یہ جو ہینڈل پر معمولی سا نشان ہے، یہ کیوں ہے؟ کہیں یہ سیکنڈ ہینڈ تو نہیں؟ اچھا، اس کے ٹائروں کی کمپنی کون سی ہے؟ یہ پٹرول کتنا لیتی ہے؟ اس کے انجن کی آواز میں مجھے تھوڑی سی لرزش محسوس ہو رہی ہے۔“

اسلم نے مسکرا کر کہا، ”مرزا صاحب! نئی گاڑی ہے، سب ٹھیک ہے۔ آپ مٹھائی کھائیے۔“
لیکن مرزا صاحب کہاں رکنے والے تھے۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر اس ماڈل کے نقص نقصانات ڈھونڈنے شروع کر دیے۔ اگلے دن وہ اسلم کے گھر پہنچ گئے اور بولے، ”میں نے معلوم کیا ہے، اس ماڈل کا جو نٹ بولٹ نمبر ۵ ہے، وہ دو سال بعد ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ اور اس کی لائٹ کا شیشہ برسات میں دھندلا پڑ سکتا ہے۔“
اسلم مرزا صاحب کی اس ”بال کی کھال اتارنے“ کی عادت سے اتنا تنگ آ گیا کہ اس نے اپنی نئی گاڑی گھر سے باہر نکالنا ہی چھوڑ دی تاکہ مرزا صاحب کی نظر نہ پڑے۔ مرزا صاحب کی اس عادت کی وجہ سے گاؤں کا کوئی بھی شخص ان سے اپنی خوشی یا کوئی نئی چیز شیئر نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ ہر چیز میں کوئی نہ کوئی باریک کیڑا نکال ہی لیتے تھے۔

آخر کار، مرزا صاحب کو احساس ہوا کہ ضرورت سے زیادہ باریکی اور نقطہ چینی انسان کو اپنوں سے دور کر دیتی ہے۔

اہم نصیحت

اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں ہر بات کی حد سے زیادہ چھان بین کرنا اور بال کی کھال اتارنا فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔ بعض اوقات چیزوں کو ان کی سادگی اور اصل حالت میں قبول کر لینا ہی رشتوں میں خوشگواری اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ بال کی کھال اتارنے سے انسان دوسروں کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بن جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے