غرور اور تکبر تنزلی کا سبب ہوتا ہے
اکرام صاحب اپنے محلے کے ایک نہایت تجربہ کار اور دانا بزرگ تھے۔ محلے کا ہر چھوٹا بڑا شخص کسی بھی الجھن میں ان سے مشورہ لینا اپنے لیے خوش قسمتی سمجھتا تھا۔
اسی محلے کے موڑ پر کامران نے ایک نئی دکان کھولی۔ کامران محنتی تو تھا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی تھی؛ وہ گاہکوں سے بہت اکھڑ پن سے بات کرتا تھا اور سامان کے دام بھی مارکیٹ سے زیادہ رکھتا تھا۔ شروع شروع میں تو نئی دکان ہونے کی وجہ سے لوگ چلے گئے، لیکن آہستہ آہستہ گاہکوں نے اس کا رویہ دیکھ کر دکان پر جانا کم کر دیا۔
اکرام صاحب نے جب یہ دیکھا تو ایک دن شفقت سے کامران کے پاس گئے اور بولے، ”بیٹا کامران! کاروبار زبان اور اخلاق سے چلتا ہے۔ اگر تم گاہکوں سے نرمی سے بات نہیں کرو گے اور قیمتیں واجبی نہیں رکھو گے، تو تمہاری دکان ٹھپ ہو جائے گی۔ برابر والی گلی میں بھی ایک نئی دکان کھل رہی ہے، ذرا ہوشیار رہو۔“
کامران نے اکرام صاحب کی بزرگانہ نصیحت کو یکسر رد کر دیا اور ماتھے پر بل لا کر بولا، ”اکرام صاحب! مجھے کاروبار سکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری دکان ہے، میری مرضی۔ جس کو سامان لینا ہو لے، ورنہ آگے بڑھے۔“
اکرام صاحب نے دیکھا کہ کامران کا لہجہ انتہائی مغرورانہ ہے اور وہ سیدھی بات کو بھی اپنی توہین سمجھ رہا ہے۔ انہوں نے گہرا سانس لیا، وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ بیٹھے دکاندار سے دھیمی آواز میں بولے:
”چھوڑو بھائی! جب کوئی اپنی بھلائی کی بات سننے کو تیار ہی نہ ہو، تو پڑے جھک مارنے دو اسے۔ مارکیٹ خود ہی اسے سبق سکھا دے گی۔“
کچھ ہی ہفتے گزرے کہ برابر والی گلی میں کھلنے والی دکان نے اپنے اچھے اخلاق اور مناسب داموں کی وجہ سے پورے محلے کے گاہک اپنی طرف کھینچ لیے۔ کامران کی دکان پر سارا دن مکھیاں اڑتیں اور اس کا سامان خراب ہونے لگا۔ اب کامران دکان پر اکیلا بیٹھا پچھتا رہا تھا کہ کاش اس دن اکرام صاحب کی بات مان لی ہوتی۔
خوبصورت سبق
اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے غرور اور نادانی کی وجہ سے مخلص دوستوں اور بزرگوں کے مشوروں کو رد کر دیتا ہے، تو لوگ اسے زبردستی سمجھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ "پڑے جھک مارنے دو" کا مطلب یہی ہے کہ اب اسے اپنی غلطیوں کا خمیازہ خود ہی بھگتنے دیا جائے، کیونکہ بعض لوگ صرف نقصان اٹھانے کے بعد ہی راہِ راست پر آتے ہیں۔
0 تبصرے