Ticker

6/recent/ticker-posts

دنیا کے اکثر حکمرانوں کا مرغوب ترین رقص

غلطی ہائے مضامین

دنیا کے اکثر حکمرانوں کا مرغوب ترین رقص

احمد حاطب صدیقی(ابونثر)

’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیلتیں اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:

ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟

نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں

گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:

جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعد نتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔

’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے ستر پوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:

گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن

اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔

’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:

آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار

زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:

کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے

جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:

کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے

’ننگی‘ کا لفظ منفی معنوں ہی میں استعمال نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کی جرأت، بے باکی، بے خوفی اور صاف گوئی کی تحسین کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”فلاں صاحب تو ننگی تلوار ہیں“۔جب کہ حقیقتاً ننگی تلوار وہ تلوار ہوتی ہے جو میان (یا نیام) میں نہ ہو۔ تلوار جب تک نیام میں رہتی ہے، تب تک اُس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ننگی تلوار نیام سے باہر لیے گھوم رہا ہو تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آج وہ کسی کا کام تمام کرنے جا رہا ہے۔ تلوار نہ ہو تو چھری سے بھی کام چل جاتا ہے، مگر کوئی چھری تلے آنے والا دستیاب تو ہو۔ اشرفؔ کہتے ہیں:

دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا

چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو تو بجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہو تو ایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کا مرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے