جدید ادبی تنقید اور ڈاکٹر عارف فرہاد
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر عارف فرہاد کے تازہ مضامین کے مجموعہ کا عنوان” نسخہ ہاۓ تحقیق” ہے۔ فیض احمد فیض کی شعری کلیات “ نسخہ ہاۓ وفا” ہے۔ گویا “ نسخہ” حکیمی، ہو، کلیمی ہو، تخلیقی ہو یا تحقیقی ہو، نسخہ تو نسخہ ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے تو مرزا غالب نے کہا تھا
تالیف نسخہ ہاۓ وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
لیکن ڈاکٹر عارف فرہاد کا مجموعۂ خیال فرد فرد نہیں بلکہ علمی و تحقیقی دنیا میں مرزا غالب ہی کے الفاظ میں کچھ یوں ہے
گنجینۂ معنی کا طلسم اُس کو سمجھئیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
ڈاکٹر عارف فرہاد اردو ادب کی “شیریں” کے عاشق ہیں۔ شیریں اور فرہاد کی بے مثال اور لازوال عشق کی داستان آپ کو اِن کی محبوبۂ طنّاز “ اردو ادبیات” سے عشق میں ملے گی۔ آپ ایک شاعر، نقّاد ، محقّق، استاد اور ادبی دانشور کے علاوہ ایک خوش لباس، خوش اخلاق اور خوش رُو شخصیّت ہیں۔ آپ نہایت خلیق اور و ضعدار انسان ہیں۔ آپ کی اردو ادبیات پر گہری نظر ہے ۔ علاوہ ازیں آپ کا فارسی اور انگریزی ادبیات کا وسیع مطالعہ ہے جو اُنہیں ایک مستند ادبی دانشور اور محقّق کی مسندِ امتیاز پر متمکن کرتا ہے۔
یہ ۲۰۱۵ کی بات ہے کہ آپ کا شعری مجموعہ” موسمِ نارسائی “ شائع ہوا۔ آپ میرے گھر تشریف لائے اور بدستِ خود یہ ادبی تحفہ مجھے دیا جس کے لیے میں آج بھی ممنون ہوں۔ آپ کی ایک کتاب “ اردو ماہیے کے خد و خال” شائع ہو کر اہلِ علم و ادب سے دادِ تحسین پا چکی ہے۔
آپ کی تازہ کتاب “ نسخہ ہاۓ تحقیق” میں مختلف موضوعات پر مقالے ہیں۔ مقالات کا تنّوع اس بات کا غمّاز ہے کہ آپ ایک وسیع المطالعہ استاد ہیں۔ اس کتاب میں اردو نثر کی تاریخ، ارتقاء اور تشکیلِ اُسلوب اور فنِ عروض پر نہایت فکر انگیز مضامین ہیں۔ خصوصاً خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی تصنیف “ معراج العاشقین” اور شاہ برہان الدین دکنی کی نثر پر روشی ڈالی گئی ہے۔ اردو شاعری، اردو نثر اور ناول نگاری کا تجزیہ ایک نئے اندازِ فکر سے کیا گیا ہے جو بذاتِ خود ایک علمی، تخلیقی اور تحقیقی کامیاب کاوش ہے۔ کولمبیا کے صحافی، ادیب اور دانشور گبر ییل گارشا مارکیز ( Gabriel Garcia Marquez کی طلسمی حقیقت نگاری( Magical Realism) پر مضمون ایک خاصے کی چیز ہے جو ہماری مشرقی روایات، ادبیات ، روحانیات اور نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ہمارے قارئین کے لیے ایک نیا اور دلچسپ مضمون ہو گا۔ آپ نے تین شاعروں ناصر کاظمی، میرا جی اور مجید امجد پر نئے انداز سے تحقیق کر کے محققینِ ادب اور نقّادوں کے لیے نیا بابِ تحقیق کھول دیا ہے۔ عروضی نقطۂ نظر اور لسانی تشکیلات پر تکنیکی بحث بہت مفید ریسرچ ہے ۔ “ ناصر کاظمی کی شاعری میں لسانی تشکیلات”، “ میرا جی کی نظموں میں عروضی محاسن” اور” مجید امجد کی شاعری میں عروضی تناقصات” ایسے تنقیدی مضامین ہیں جو ارود تنقید میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں۔
اصل میں اس کتاب کے مضامین اردو ادب کے اسلوبیاتی، ساختیاتی تشکیل، صوفیانہ ما بعدالطبیعات، اور فنِّ عروض کے بنیادی مباحث جدید اردو شاعری کے تناظر میں ایک منفرد تحقیق ہے۔ فنِ عروض کی روشنی میں ناصر کاظمی، میرا جی اور مجید امجد کی شاعری کا تجزیہ بڑی عرق ریزی کا کام ہے۔ عروض کے بارے میں رومی سے ایک شعر منسوب ہے
شعر گویم بہتر از قند و نبات
من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
فنِ عروض کی تجدید اور توسیع میں اخفش اوسط کے اجتہادی کردار پر مصنّف نے بہت تحقیقی مقالہ ہے جو اس فن کی تفہیم کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس کتاب میں شاعرانِ قدیم اور جدید کی اردو شاعری کی تخلیقی تشکیل کے مراحل پر بڑی ژرف نگاہی سے بیسویں صدی میں جدید حسّیت اور لسانی ساخت کے نئے زاویوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ناصر کاظمی کی شاعری میں تخلیقی ساخت، علاماتی نئے معنوی امکانات اور جمالیاتی مفاہیم کا تذکرہ کرتے ہوئے ناصر کاظمی کی شاعری کو لسانی استعاراتی شعور کی بہترین مثال قرار دیتے ہوۓ اُن کا یہ مشہور شعر نقل کرتے ہیں
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
مجید امجد کے بارے میں لکھتے ہیں
“ مجید امجد کا شعری مزاج “ بحرِ متقارب سے ہم آہنگ ہے
”اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مصّنف کی قدیم اور جدید ادبی تنقید پر گہری نظر ہے۔ آپ نے اردو اور انگریزی کی متعدّد کتابوں کے حوالے دیئے ہیں۔ اس طرح یہ کتاب صرف ادبی تنقید کی کتاب ہی نہیں بلکہ علمی اور عالمی معیار کا وہ گراں قدر تحفہ ہے جو مصنّف کی شب و روز کی محنتِ شاقہ کا ثمر ہے۔ میری نظر میں یہ ایک علمی و ادبی تحفہ ہے جو ڈاکٹر عارف فرہاد نے نئی نسل کے شائقین ادب کو دیا ہے۔ اِس کے مطالعہ سے تشگانِ علم و ادب سیراب بھی ہوں گے اور اُن پر جدید تنقید کے در بھی وا ہوں گے۔ اگر یوں کہا جاۓ کہ یہ ادبی کارنامہ ڈاکٹر عارف فرہاد کے علم و عرفان، ذوق و شوق، دانش و بینش ، جذبۂ تحقیق و تنقید، نیاز و گداز اور شبانہ روزعرق ریزی کا نتیجہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ کا شمار عصرِ حاضر کے ممتاز ادبی دانشوروں میں ہوتا ہے۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے-
این کار از تو آید و مردان چنین کنند
۳۰ جون ۲۰۲۶
اسلام آباد
0 تبصرے