جب علاج تجارت بن جائے
ازقلم۔ اظہر نصیر
کہتے ہیں (نیم حکیم خطرۂ جان)۔ مگر جب ایک مستند ڈاکٹر بھی اپنے پیشے کے تقاضوں سے انصاف نہ کر سکے، اور چند روپیوں کی خاطر مریضوں کے بہتر علاج کے بجائے غیر ضروری ٹیسٹ، فرضی سرجریوں، بے جا آپریشنز اور دواؤں کے کاروبار کو ترجیح دے، تو پھر واقعی اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام ڈاکٹر ایسے نہیں ہوتے۔ آج بھی بے شمار معالج اپنے پیشے کو عبادت سمجھ کر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ ہمدردی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، وہ صرف اپنے شعبے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بدنما داغ بن جاتے ہیں۔
ان چند افراد کے غیر اخلاقی رویوں کی وجہ سے ایک مقدس پیشے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور معاشرے کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ انسانیت کی خدمت ہر پیشے کا بنیادی مقصد ہونی چاہیے، کیونکہ جب خدمت، اخلاص اور وفاداری ختم ہو جائے تو علم اور مہارت بھی اپنی اصل قدر کھو دیتی ہے۔
0 تبصرے