Ticker

6/recent/ticker-posts

آج کا سبق : راحت کا خزانہ

 آج کا سبق : راحت کا خزانہ

14 محرم الحرام 1448ھ منگل/ سہ شنبہ 30/6/26

راحت کا خزانہ

دل کا سرور بڑی نعمت ہے اور سکون و راحت کا ذریعہ ہے کہ اس سے انسان کی طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے، کہا گیا ہے کہ سرور ایک فن ہے، جس کو سیکھنے کی ضرورت ہے، جس نے یہ فن جان لیا کہ سرور کس طرح حاصل ہوتا ہے ، اور اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، وہ زندگی کا لطف پاتا ہے اور حاصل شدہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، مصائب میں صبر وتحمل سے کام لینا اور غم زدہ نہ ہونا، یہ دل کا سرور ہے کہ اس کی تقویت سے دل قوی ہوگا، مصائب میں واویلا کرنا اور چھوٹی باتوں پر الجھنا، یہ چیز پریشانیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے، لیکن وہ شخص جس نے غصہ کے وقت صبر و تحمل سے کام لیا، اس کے سامنے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے، سرور کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائے۔

لہذا مجھے اور آپ کو چاہیے کہ پریشانیوں سے حتی الوسع دور رہیں، اسی میں اپنی اور دوسروں کی بھلائی ہے، سرور کے فن میں ایک بات یہ بھی ہے کہ پریشانی کے وقت ذہن کو ادھر ادھر کی سوچ بچار میں بچا کر رکھا جائے اور خود کو مطمئن ---- اپنی سوچ کو لگام نہ لگانا خود کو پریشان کرنے والی بات ہے، اسی طرح یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اپنی زندگی کو اتنی قیمت دو، جتنی بنتی ہے، نہ یہ کہ زندگی کو خود پر سوار کر لو، ارباب نعمت کو زوال نعمت سے ڈرنا چاہئے ، دنیا کی زندگی اس لائق نہیں، ہم غم زدہ ہو کر خود کو پریشانی میں مبتلا کر لیں، کیوں کہ اللہ تعالٰیٰ نے اس دنیاوی زندگی کو خوشی و غمی کے جذبات سے مرکب بنایا ہے ، اور یہی انسان کی آزمائش کے لمحات ہیں، مقصود یہ ہے کہ پریشانیوں کو مغلوب کیا جاءے، کیوں کہ مومن کے لئے مکمل راحت و آرام تو بس جنت میں ہے، اس لیے عقل مند آدمی کو چاہیے کہ پریشانیوں کو خود پر سوار نہ کرے اور نہ خود پریشانیوں کے سامنے کمزور ہو ---
#'از: مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے