Ticker

6/recent/ticker-posts

جیسا کروگے ویسا بھروگے : نصیحت آموز سبق

جیسا کروگے ویسا بھروگے : نصیحت آموز سبق

کسی گاؤں میں اسلم اور ساجد نامی دو پڑوسی رہتے تھے۔ اسلم ایک رحم دل اور محنتی کسان تھا، جبکہ ساجد انتہائی حاسد اور تنگ نظر انسان تھا۔ ساجد کو ہمیشہ اسلم کی خوشحالی اور اس کے لہراتے ہوئے کھیت دیکھ کر جلن ہوتی تھی۔

ایک سال اسلم نے اپنے کھیتوں میں بہت عمدہ فصل بوئی۔ ساجد سے اس کی یہ خوشی برداشت نہ ہوئی۔ اس نے اسلم کو نقصان پہنچانے کا ایک بدنیتی پر مبنی منصوبہ بنایا۔ وہ رات کے اندھیرے میں چپکے سے اسلم کے کھیت کی طرف جانے والے راستے اور اس کے کھیت کے کناروں پر جنگلی خاردار جھاڑیوں کے بیج (کانٹے) بو آیا، تاکہ جب اسلم وہاں کام کرنے جائے، تو یہ کانٹے اس کے پیروں کو زخمی کر دیں اور فصل خراب ہو جائے۔

دن گزرتے گئے، بارش ہوئی اور ساجد کے بوئے ہوئے کانٹے دار پودے تیزی سے بڑھ کر بڑے ہو گئے۔ ساجد اپنے دل میں بہت خوش تھا کہ اب اسلم کو اس کا مزہ چکھنا پڑے گا۔

ایک شام، اچانک گاؤں میں یہ خبر پھیلی کہ ساجد کا چھوٹا بیٹا، جو کھیتوں کی طرف کھیلنے گیا تھا، راستہ بھٹک گیا ہے اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے گھر واپس نہیں آ پا رہا۔ ساجد گھبرا گیا اور بدحواسی میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے اسی راستے کی طرف بھاگا۔

جلد بازی اور اندھیرے کی وجہ سے ساجد کا دھیان نہ رہا اور اس کا پیر انھی تیز اور زہریلے کانٹوں پر پڑ گیا جو اس نے خود چند ماہ پہلے اسلم کے لیے بوئے تھے۔ کانٹے اس کے پیروں میں بری طرح چبھ گئے اور وہ درد سے چلاتا ہوا وہیں گر پڑا۔ وہ اب چلنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا کہ آگے جا کر اپنے بیٹے کو تلاش کر سکے۔

اسی دوران، اسلم وہاں سے گزر رہا تھا۔ ساجد کی چیخیں سن کر وہ فوراً وہاں پہنچا۔ ساجد کی حالت دیکھ کر اسلم نے بنا کچھ سوچے سمجھے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا، پہلے اس کے بیٹے کو محفوظ طریقے سے ڈھونڈ کر لایا اور پھر ساجد کو ہسپتال پہنچایا۔

ڈاکٹر نے جب ساجد کے پیروں سے کانٹے نکالے، تو ساجد شرمندگی کے مارے خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اس نے روتے ہوئے اسلم سے معافی مانگی اور بولا:

”اسلم بھائی! تم نے میرے ساتھ بھلائی کی، جبکہ میں نے تمہاری راہ میں کانٹے بوئے تھے۔ آج مجھے اندازہ ہو گیا کہ جو دوسروں کے لیے کانٹے بوتا ہے، سب سے پہلے وہ کانٹے اس کے اپنے ہی پیروں کو زخمی کرتے ہیں۔“

نصیحت آموز سبق


یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم دوسروں کے لیے جو بھی برائی یا اچھائی کا بیج بوتے ہیں، وہ لوٹ کر ہمارے پاس ہی آتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ”جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے“۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے