کشمیر کی ریل (ٹرین)، سستا سفر یا مہنگا وقت؟
از قلم، اظہر نصیر
کسی بھی علاقے کی ترقی کا اندازہ وہاں کے تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور ٹرانسپورٹ کے نظام سے لگایا جاتا ہے۔ ایک مؤثر، بروقت اور محفوظ سفری نظام عوام کی زندگی کو آسان بناتا ہے، کاروبار کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کے قیمتی وقت کی حفاظت کرتا ہے۔ کشمیر میں ریل سروس کا آغاز ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ اس نے ہزاروں لوگوں کے لیے سفر کو آسان، محفوظ اور نسبتاً سستا بنایا۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جس پر عوام بجا طور پر خوش ہیں اور اس کے لیے حکومت اور ریل انتظامیہ شکریے کی مستحق ہے۔
لیکن ہر اچھی سہولت کی طرح اس نظام میں بھی کچھ ایسی مشکلات موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کرایہ کم ہونا یقیناً ایک بڑی نعمت ہے، مگر اگر وقت ہی ضائع ہو جائے تو کم کرایہ بھی اپنی اہمیت کھونے لگتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو آج اکثر مسافروں کے ذہن میں گردش کرتا ہے۔
ریل گاڑی میں سفر کا سب سے بڑا فائدہ آرام، حفاظت اور کم خرچ ہونا ہے۔ روزانہ سینکڑوں ملازمین، طلبہ، مریض، تاجر اور عام شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بہت سے ایسے خاندان بھی ہیں جن کے لیے ریل کا کم کرایہ مالی طور پر بڑی آسانی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس سہولت کو پسند بھی کرتے ہیں اور اس کے مزید بہتر ہونے کی امید بھی رکھتے ہیں۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریل گاڑی مقررہ وقت پر نہیں پہنچتی۔ کبھی آنے میں تاخیر ہوتی ہے اور کبھی روانگی میں۔ اگر کسی دن وقت پر روانہ بھی ہو جائے تو راستے میں مختلف اسٹیشنوں پر غیر معمولی دیر تک کھڑی رہتی ہے۔ مسافر بار بار گھڑی دیکھتے ہیں، ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ آخر گاڑی کب چلے گی۔ انتظار کی یہ کیفیت رفتہ رفتہ ذہنی تھکاوٹ میں بدل جاتی ہے۔
سفر صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی مسافر وقت پر اپنی منزل تک پہنچنے کی امید لے کر گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ذہن میں بہت سے منصوبے ہوتے ہیں۔ کسی کو دفتر پہنچنا ہوتا ہے، کسی کو امتحان دینا ہوتا ہے، کسی کو ہسپتال جانا ہوتا ہے اور کسی کو اپنے عزیزوں سے ملنا ہوتا ہے۔ لیکن بار بار کی تاخیر ان تمام منصوبوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفر کی تھکن کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ سڑک پر چلنے والی موٹر گاڑیاں بظاہر ریل سے کم رفتار میں چلتی ہیں، لیکن اکثر مسافروں کو ریل گاڑی سے پہلے ان کی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ موٹر گاڑی بہت تیز چلتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ غیر ضروری انتظار سے بچ جاتی ہے۔ دوسری طرف ریل کے طویل وقفے مجموعی سفر کا وقت بڑھا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تیز رفتار ہونے کے باوجود ریل اپنے مقصد کو پوری طرح حاصل نہیں کر پاتی۔
وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ کھویا ہوا مال دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن گزر جانے والا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسی لیے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں وقت کی پابندی کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔ اگر ریل گاڑی اپنے مقررہ اوقات کی پابندی کرے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے۔
عوامی سہولت کا مطلب صرف کم کرایہ نہیں بلکہ بروقت، باوقار اور قابل اعتماد سفر بھی ہے۔ ایک ایسا نظام جس پر لوگ بلا جھجک بھروسا کر سکیں، حقیقی عوامی خدمت کہلاتا ہے۔ اگر کسی ملازم کو روزانہ تاخیر کی وجہ سے دفتر میں جواب دہ ہونا پڑے، کسی طالب علم کا امتحان متاثر ہو جائے یا کسی مریض کو بروقت علاج نہ مل سکے تو یہ صرف سفر کی تاخیر نہیں بلکہ زندگی کے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے والی مشکل بن جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کیا صرف ریل انتظامیہ ذمہ دار ہے یا مسافروں کا بھی کوئی کردار ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری دونوں طرف موجود ہے۔ اگر ریل انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی مسائل، سگنلنگ، حفاظتی تقاضے، ایک ہی ٹریک پر مختلف گاڑیوں کی آمد و رفت یا دیگر انتظامی وجوہات تاخیر کا سبب بنتی ہیں تو ان مسائل کے مستقل حل کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ عوام کو بھی بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ذہنی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔
دوسری طرف بعض اوقات مسافر بھی قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے۔ دیر سے پلیٹ فارم پر پہنچنا، غیر ضروری بھیڑ پیدا کرنا، دروازوں پر ہجوم لگانا یا دیگر بے احتیاطیاں بھی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک بہتر سفری ماحول کے لیے انتظامیہ اور عوام دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔
یہ بات بھی قابل تعریف ہے کہ کشمیر جیسے دشوار گزار خطے میں ریل کا نظام قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ پہاڑ، سرنگیں، موسم کی سختیاں اور جغرافیائی مشکلات اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود ریل سروس کا چلنا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کامیابی پر متعلقہ ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
تاہم عوام کی توقعات بھی بجا ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ریل وقت کی پابند ہو، غیر ضروری توقف کم کیے جائیں، مسافروں کو تاخیر کی وجوہات سے فوری آگاہ کیا جائے، ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور روزانہ سفر کرنے والوں کی مشکلات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ جب عوام کی آراء کو اہمیت دی جائے گی تو یقیناً نظام مزید مضبوط ہوگا۔
تنقید کا مقصد کسی ادارے کی مخالفت نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصلاح کی راہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔ اگر عوام اپنی مشکلات بیان کرتے ہیں تو یہ شکایت نہیں بلکہ ایک بہتر نظام کی خواہش ہے۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی عوامی مسائل کو مثبت انداز میں سننا چاہیے کیونکہ ایک مضبوط ادارہ وہی ہوتا ہے جو تنقید سے سیکھ کر اپنی خدمات کو بہتر بنائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی ریل عوام کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس نے سفر کو آسان اور کم خرچ بنایا ہے، جس پر ہم دل سے شکر گزار ہیں۔ لیکن وقت کی پابندی، غیر ضروری تاخیر کے خاتمے، بہتر انتظام اور مؤثر رابطے کے بغیر یہ سہولت اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکتی۔ امید ہے کہ ریل انتظامیہ عوام کی جائز توقعات کو سمجھتے ہوئے اس نظام کو مزید بہتر بنائے گی تاکہ مسافر کم خرچ کے ساتھ ساتھ بروقت، آرام دہ اور بااعتماد سفر بھی کر سکیں۔ جب سفر آسان ہوگا، وقت محفوظ ہوگا اور عوام مطمئن ہوں گے، تب ہی ریل واقعی ترقی، سہولت اور عوامی خدمت کی علامت بنے گی۔
0 تبصرے