Ticker

6/recent/ticker-posts

میں شاعر نہیں - Main Shayar Nahi Nazam

میں شاعر نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے لفظوں کا جنگل اگایا
اس میں ایک درخت لگایا
جس کی ہر شاخ پر
تعریف کے پرندے بھی بیٹھے
اعتراض کے کوّے بھی

میں نے
کسی کو پتھر نہیں مارا
بس کبھی کبھی
اپنے باغ کے دروازے بند کر دیے

میرے لیے
شعر صرف کاغذ پر سیاہی نہیں
روح کے بند دریچوں کی
آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی کھڑکی ہے

میں نے
دریا کے ہر شور کے ساتھ بہنا نہیں سیکھا
اپنی کشتی ایک ہی ساحل کے نام کر دی ہے

میرا مخاطب
ہجوم نہیں
وہ ایک چراغ ہے
جس کی روشنی میں
عمر بھر کے موسم بسر ہوئے

لوگ نام پوچھتے رہے
میں معنی تلاش کرتا رہا

لوگ شہرت کے مینار چڑھتے رہے
میں اپنے اندر
ایک آسمان آباد کرتا رہا

اگر کہیں
راستے کے کانٹے چننے پڑے
تو یہ نفرت نہیں تھی
صرف سفر کی حفاظت تھی

اب بھی
جو دعا کی صورت آتے ہیں
دل میں جگہ پا لیتے ہیں
اور
جو گرد بن کر اڑتے ہیں
ہوا کے سپرد کر دیتا ہوں

میں شاعر نہیں
بس ایک مسافر ہوں
جو زخموں کو لفظوں میں بدل کر
اپنا بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
کامران مغل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے