مولانا امداد صابری:شخصیت اور خدمات
معصوم مرادآبادی
مایہ ناز محقق اور درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا امداد صابری پر خاکسار کی تازہ کتاب انجمن ترقی اردو (ہند) نے شائع کردی ہے۔ ”مولانا امدادصابری:شخصیت اور خدمات“ کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ کتاب دراصل ایک عظیم مصنف اور محقق کو ادنیٰ خراج عقیدت ہے اور میرے نزدیک یہ ایک بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کی کوشش بھی ہے۔ مولا نا امداد صابری کو اس اعتبار سے ایک مظلوم شخصیت کہا جاسکتا ہے کہ ان کے انتقال کو38 برس گزر جانے کے باوجود آج تک ان پر کوئی کام نہیں ہوا۔ انھوں نے مختلف اور متنوع موضوعات پر 76 کتابیں تصنیف کیں اور ان میں تحقیق وتنقید کے دریا بہادئیے، لیکن آج تک ہماری کسی دانش گاہ کو یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ ان پر کسی طالب علم کو پی ایچ ڈی کرائی جاتی۔ پی ایچ ڈی توکجا کسی یونیورسٹی نے ان پر ایم فل کا مقالہ بھی لکھوانا پسند نہیں کیا۔ یہ دراصل اردو صحافت اور صحافیوں کے ساتھ ان دانش گاہوں کے سوتیلے سلوک کا ہی ثبوت ہے۔صحافی خواہ کتنا ہی ذی علم اور باشعور کیوں نہ ہو، وہ اہل ادب کی نگاہ میں روزنامچہ نویس ہی رہتا ہے۔حالانکہ اس عرصے میں ایسے ایسے موضوعات پر تحقیق کرائی گئی جنھیں کوئی سونگھنا بھی پسند نہیں کرتا۔
مولانا امداد صابری پر زیرنظر کتاب ترتیب دیتے وقت میرے ذہن میں ان کا وہ بیش قیمت کام تھا جو انھوں نے اردو صحافت کی تاریخ وتدوین کے ذیل میں کیا ہے۔پانچ جلدوں پر مشتمل تقریباً 4000 صفحات پھیلی ہوئی یہ کتاب اردو صحافت پر کام کرنے والوں کے لیے بنیادی مآخذ کا درجہ رکھتی ہے۔اردو اخبارات پر پہلی کتاب سید محمد اشرف کی ’اختر شہنشاہی‘ ہے،جو 1888میں لکھنؤ سے شائع ہوئی تھی۔یہ اس دور میں شائع ہونے والے اخبارات کی ڈائریکٹری کہی جاسکتی ہے۔اس کے بعد دور تک خاموشی نظر آتی ہے۔مولانا امداد صابری واحد شخص ہیں جنھوں نے آزادی کے بعد اردو صحافت پر سب سے زیادہ کام کیا۔ اس کے بعد محمد عتیق صدیقی، عبدالسلام خورشید، جی ڈی چندن اور ڈاکٹر طاہر مسعود کے نام آتے ہیں، لیکن ان سب کا مجموعی کام بھی مولانا امداد صابری کے برابر نہیں ہے۔
اردو صحافت اور صحافیوں پر انتہائی وقیع کتابوں کے علاوہ مولانا امداد صابری نے مختلف موضوعات پر چھ درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔
المیہ یہ بھی ہے کہ مولانا امداد صابری کی کوئی کتاب اس وقت بازار میں دستیاب نہیں ہے۔لائبریروں میں ان کی کتابوں کے جو نسخے موجود ہیں، وہ خستہ حالت میں ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مولانا اپنی کتابیں خود ہی شائع کرتے تھے۔ وسائل کم یاب ہونے کی وجہ سے یہ کتابیں لیتھو کی کتابت وطباعت کے قدیم طرز پر شائع ہوتی تھیں۔کاغذ بھی معمولی قسم کا ہوتا تھا۔میں نے مولانا امداد صابری کے بارے میں مواد حاصل کرنے کے لیے خود ان کی کتابوں سے ہی سب سے زیادہ استفادہ کیا۔ اس کام کے لیے مجھے دہلی اردو اکادمی کی داراشکوہ لائبریری، جامعہ کی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری، غالب اکیڈمی لائبریری کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری سے رجوع ہونا پڑا۔
سچ پوچھئے تو مولانا امداد صابری کی تحقیقی اور علمی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز اردو صحافت ہی تھی جس کی ترقی کے لیے وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔مگر افسوس انھیں بہت جلد فراموش کردیا گیا۔میں ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جنھوں نے مولانا امداد صابری کو نہ صرف بارہا دیکھا بلکہ مجھے اپنی صحافتی زندگی کی ابتداء میں ان سے انٹرویو لینے کا بھی موقع ملا۔اس کتاب میں جن صاحبان علم وفضل کے مضامین یکجا کئے گئے ہیں ان میں ڈاکٹر جمیل جالبی، پروفیسر کامل قریشی،پروفیسر تنویر احمد علوی،مولانا اخلاق حسین قاسمی، جی ڈی چندن، عبدالعزیز دہلوی، پنڈت ہرسروپ شرما، ڈاکٹر رضوان احمد،جلال الدین اسلم اور سہیل انجم وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ میں انجمن ترقی اردو (ہند)کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہرفاروقی کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس کتاب کو اپنے ادارے سے شائع کرنے کی میری گزارش کو قبول کیا۔
کتاب حاصل کرنےکے لئےاس رابطہ کریں۔
الکتاب فاؤنڈیشن
8340586502

0 تبصرے