Ticker

6/recent/ticker-posts

ان کے لہجے میں جو بارود جمی رہتی ہے : غزل

ان کے لہجے میں جو بارود جمی رہتی ہے : غزل

غزل

ان کے لہجے میں جو بارود جمی رہتی ہے
میرے ہونٹوں پہ محبت کی ہنسی رہتی ہے

کیسے کہدوں! کہ میرے لب کو سیا ہے تونے
میری آواز پہ نیزے کی انی رہتی ہے

دیدہ ور کہتے مجھے، کچھ تو جہاں دیدہ بھی
میری آنکھوں میں جہانوں کی نمی رہتی ہے

پایا سب کچھ ہے سوا وصل کے محبوب مرے
میری ہستی پہ گراں تیری کمی رہتی ہے

کج ادا تو ہے سراسر، تیری خمدار بھنویں
اور مژگان میں، گیسو میں خمی رہتی ہے

اب بھی نا پختہ ہے ارشاد! سخن سازوں میں تو
تیرے اشعار میں ہلکی سی کنی رہتی ہے

ڈاکٹر ارشاد خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے