قلم تو بِکتا ہے، کم کم کتابیں بکتی ہیں : غزل
6 جون 2026
غزل
قلم تو بِکتا ہے، کم کم کتابیں بکتی ہیں
کمال یہ ہے مگر انتسابیں بکتی ہیں
سخن تو منتقل قرطاس پر کریں ہم بھی
وہ اور لوگ ہیں جن کی کتابیں بکتی ہیں
یہاں پہ عارض و لب، گیسوؤں کے ذکر کی مانگ
سخن سے بڑھ کے یہاں اب شرابیں بکتی ہیں
جو اپنے عہد کی ظلمت کو آشکار کرے
اسی کے حصّے میں اکثر عتابیں بکتی ہیں
کتاب ردّی میں ، نیلامی میں بہت مہنگی
کسی کی پہنی پرانی جُرابیں بکتی ہیں
یہاں ہیں منبروں پہ جنّتوں کے سودا گر
یہیں بہشت کے خیمے ، طنابیں بکتی ہیں
کسی کے علم و ہنر کی نہیں رہی قیمت
یہاں تو نام کی ساری نقابیں بکتی ہیں
جو حرفِ حق کو سنائے، وہی خسارے میں
جھکاؤ سر جو تو عالی جنابیں بکتی ہیں
وفا، خلوص، محبت کو کون پوچھے اب
یہاں تو دام سے ہی آب و تابیں بکتی ہیں
ہمارے لفظ ہیں آزاد اسپ صحرا کے
نہ ہم بکے ہیں، نہ ہم سے رکابیں بکتی ہیں
نہ جانے کب کوئی پہچان لے گا جوہر کو
ابھی تو شہر میں بس انتخابیں بکتی ہیں
جلا نہ اپنا لہو، انتظار کر طارِقؔ
اندھیری رات میں روشن سرابیں بکتی ہیں
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ - لندن
0 تبصرے